اردن کا پرامن شہر کرک اس وقت شدید خوف و ہراس اور دہشت کی لپیٹ میں آ گیا ہے جب حمود کے علاقے میں واقع ایک چرچ میں سوگواروں کے ہجوم پر نامعلوم مسلح افراد نے قیامت خیز حملہ کر دیا۔
ابدی نیند سونے والے اپنے پیارے کے اخلاقی جنازے میں شریک بے گناہ شہریوں کو گولیوں کا نشانہ بنا دیا گیا جس کے نتیجے میں 7 افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ 34 سے زائد افراد شدید زخمی ہو کر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
بی بی سی کی تصدیق شدہ سی سی ٹی وی فوٹیج نے اس خونی ڈرامے سے پردہ اٹھا دیا ہے۔ ویڈیو میں تین خطرناک مسلح افراد کو پستول نما ہتھیار لہراتے ہوئے سڑک سے چرچ کی سمت بڑھتے دیکھا جا سکتا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق حملہ آوروں نے چرچ میں داخل ہوتے ہی بغیر کسی رحم کے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی جو مسلسل 15 منٹ تک جاری رہی۔
مقامی عینی شاہد خالد المدانات اور دیگر نے بتایا کہ فائرنگ کی زبردست تڑتڑاہٹ سے چرچ میں بھگدڑ مچ گئی۔ لوگ اپنی جانیں بچانے کے لیے نشستوں کے نیچے دُبک گئے مائیں اپنے ننھے بچوں کو سینے سے لگائے کھڑکیوں اور دروازوں سے باہر بھاگنے کی کوشش کرتی رہیں جبکہ فرِش پر لاشوں اور خون کا سمندر تیرنے لگا۔
تینوں درندے 15 منٹ تک خون کی ہولی کھیلنے کے بعد باہر نکلے اور ایک پک اَپ گاڑی میں بیٹھ کر ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اردن کے وزیر داخلہ مازن الفرايہ نے ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسے انتہا پسندوں کا ایک منظم حملہ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں : ہری پور میں خوفناک حادثہ نے 4 دوستوں کی زندگی کے چراغ گل کر دیے، ہرطرف چیخ وپکار
دوسری جانب شاہِ اردن عبداللہ دوم نے ہنگامی طور پر مذمت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس دہشت گردانہ کارروائی کے ذمہ داروں کا پیچھا کیا جائے گا اور انہیں عبرت ناک اور سخت ترین سزا دی جائے گی۔
خوفناک سانحے کے بعد پورے کرک گورنری میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
مرکزی اسپتال اور اردگرد کی تمام سڑکیں سیل کر کے بھاری تعداد میں سکیورٹی فورسز اور کمانڈوز تعینات کر دیے گئے ہیں۔ تاحال کسی بھی گروہ نے اس بزدلانہ حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی جس نے اردن کی سکیورٹی کے گرد کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔





