مالاکنڈ : خیبر پختونخوا میں طویل عرصے تک حکمران رہنے والی تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے تعلیمی ایمرجنسی اور اصلاحات کے تمام تر دعووں کا پول مالاکنڈ میں کھل کر سامنے آ گیا ہے۔
تحصیل تھانہ بائزئی کے علاقے ڈھنڈہ میں واقع گورنمنٹ پرائمری اسکول حکومتی عدم توجہی، فنڈز کی بے ضابطگیوں اور محکمۂ تعلیم کی مبینہ مجرمانہ غفلت کا شکار ہو کر ایک مکمل کھنڈر کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
علم کی درسگاہ اب کچرا کنڈی اور نشئیوں کا ٹھکانہ
ماضی میں علاقے کے سینکڑوں غریب بچوں کو تعلیم کے نور سے آراستہ کرنے والا یہ سرکاری ادارہ پی ٹی آئی کے 13 سالہ دورِ اقتدار میں اپنی تمام تر افادیت کھو چکا ہے۔
جہاں کبھی حصولِ علم کے لیے نونہالانِ وطن کی آمدورفت اور چہچہاہٹ ہوتی تھی، وہاں اب صرف کچرے کے ڈھیر اور گندگی پھیلی ہوئی ہے۔
مقامی افراد کے مطابق، حکومت اور انتظامیہ کی کھلی لاپرواہی کی وجہ سے اسکول کی عمارت اب کوڑا کرکٹ پھینکنے اور نشہ کرنے والے افراد کے اڈے کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔
سرکاری وسائل کی بربادی اور محکموں کی تباہی
اگرچہ اسکول کی بنیادی ساخت تاحال کھڑی ہے، لیکن اس کے دروازے، کھڑکیاں، سینیٹری، بجلی کی فٹنگ اور دیگر تمام قیمتی سامان غائب ہو چکا ہے، جس سے سرکاری مالِ مفت کو بے رحمی سے لوٹے جانے کا واضح ثبوت ملتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : نہار منہ زیتون کا تیل پینے کے کیا فوائد ہیں؟
یہ زبوں حالی نہ صرف پی ٹی آئی دور میں سرکاری وسائل کے بے دریغ ضیاع اور لوٹ مار کی عکاسی کرتی ہے بلکہ علاقے میں تعلیمی سہولیات کی تباہی پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کرتی ہے۔
عوام کا شدید احتجاج اور سوالات
عوام سوال اٹھا رہے ہیں کہ ’تعلیمی انقلاب‘ کا ڈھنڈورا پیٹنے والی سابقہ صوبائی حکومت کے زیرِ سایہ ایک اہم تعلیمی ادارہ کس طرح رفتہ رفتہ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا؟ اور متعلقہ حکام و وزراء اس کی بحالی اور حفاظت کے بجائے کیوں آنکھیں مونھے بیٹھے رہے؟
علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ انتظامیہ اور محکمۂ تعلیم فوری طور پر اسکول کی اس زبوں حالی کا نوٹس لیں، سابقہ حکمرانوں اور ذمہ دار افسران کی غفلت کا حساب کریں اور اس سرکاری اثاثے کو مزید بربادی سے بچا کر ایمرجنسی بنیادوں پر بحال کریں۔





