پشاور کو دوبارہ ‘پھولوں کا شہر’ بنانے کا عزم، رنگ روڈ صاف، اب اندرونِ شہر میں بلڈوزر چلانے کی تیاری

پشاور: خیبر پختونخوا میں حکومت کی تبدیلی اور نئے انتظامی سیٹ اپ کے بعد ضلعی انتظامیہ نے پشاور کو تجاوزات سے پاک کرنے اور پھولوں کے شہر کی پرانی خوبصورتی بحال کرنے کے لیے گرینڈ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے، جو چھٹے روز بھی بلاامتیاز جاری رہا۔

 کمشنر پشاور کیپٹن (ر) خالد محمود اور ڈپٹی کمشنر پشاور آفاق وزیر کی براہِ راست نگرانی میں جاری اس مہم کے دوران اب تک 400 سے زائد پختہ غیر قانونی تعمیرات، دکانیں، مارکیٹیں اور پیٹرول پمپس بھاری مشینری کے ذریعے مسمار کیے جا چکے ہیں۔

آپریشن کے پہلے مرحلے کا آغاز حیات آباد ٹول پلازہ رنگ روڈ سے کیا گیا جو اب موٹرووے چوک تک پہنچ چکا ہے، جبکہ گڑھی قمر دین، جمیل چوک، پیر زکوڑی فلائی اوور اور پشتخرہ چوک جیسے گنجان علاقوں کو مکمل طور پر تجاوزات سے پاک کر دیا گیا ہے۔

 انتظامیہ کے مطابق رنگ روڈ کے بعد اندرونِ شہر میں بھی گرینڈ آپریشن کا پلان تیار کر لیا گیا ہے جہاں کے تاجروں کو نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں اور مقررہ وقت پر خود تجاوزات نہ ہٹانے کی صورت میں بلڈوزر چلا دیا جائے گا۔

کمشنر پشاور کیپٹن (ر) خالد محمود کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کسی سیاسی یا معاشی دباؤ میں آئے بغیر قانون کے مطابق فرائض انجام دے رہی ہے اور تاجر برادری سے مشاورت کے باوجود قانون شکنی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز سخت ایکشن لیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں : نعرے کچھ اور، حقیقت کچھ اور، تحریکِ انتشار کے دور میں علم کی درسگاہیں نشئیوں کے اڈے بن گئیں

انہوں نے واضح کیا کہ آپریشن کا مقصد انتقامی کارروائی نہیں بلکہ سرکاری اراضی کی واگزاری اور شہر کی خوبصورتی کا قیام ہے، جس کے لیے تجاوزات کے دوبارہ قیام کو روکنے کے حوالے سے مستقل نگرانی کا نظام وضع کیا جا رہا ہے۔

 ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) داؤد سلیمی کے مطابق تمام متعلقہ محکموں کے باہمی تعاون سے جاری اس مہم کا بنیادی مقصد اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانا اور شہریوں کے لیے آمدورفت میں آسانیاں پیدا کرنا ہے۔

دوسری جانب پشاور کے شہریوں اور تاجر برادری کے ایک بڑے حصے نے ضلعی انتظامیہ کے اس قدم کا گرمجوشی سے خیرمقدم کیا ہے۔

 شہریوں کے مطابق فٹ پاتھوں اور سڑکوں پر قائم غیر قانونی قبضہ شہر کی خوبصورتی میں بڑی رکاوٹ تھا جس سے شدید ٹریفک جام اور پیدل چلنے والوں کو ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ اس مہم کو صرف رنگ روڈ یا مخصوص علاقوں تک محدود رکھنے کے بجائے شہر کی تمام گنجان مارکیٹوں اور بازاروں تک پھیلایا جائے اور تجاوزات کے خاتمے کے بعد مستقل پولیس و انتظامی چیکنگ یقینی بنائی جائے تاکہ پشاور ایک بار پھر پھولوں کے شہر کی حقیقی شکل میں ڈھل سکے۔

Scroll to Top