پشاور: بدلتا، نکھرتا اور مضبوط خیبر پختونخوا کے عزم کے ساتھ صوبے میں عوامی فلاح اور بنیادی انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے جاری ترقیاتی کاموں کی رفتار دن بدن تیز ہوتی جا رہی ہے۔
تحریکِ انتشار کے 13 سالہ تباہ کن دورِ حکومت اور بدانتظامی کے بعد صوبے میں بننے والی نئی انتظامیہ اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد نئی حکومت عملی میدان میں مکمل طور پر متحرک دکھائی دے رہی ہے۔
اسی سلسلے میں جہاں ایک طرف تجاوزات مافیا کے خلاف سخت کریک ڈاؤن شروع کیا گیا ہے، وہیں دوسری طرف تحریکِ انتشار کے دور میں نظرانداز کیے گئے اضلاع اور دارالحکومت پشاور کو گندگی اور بدبو کے عذاب سے نکالنے کے لیے ہنگامی صفائی مہمات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
قبائلی ضلع باجوڑ میں ضلعی انتظامیہ نے قانون کی شاطرانہ خلاف ورزیوں اور غیر قانونی تجاوزات کے خلاف بڑا آپریشن شروع کر دیا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق خار بازار اور شنڈئی موڑ سمیت اہم تجارتی مراکز میں کارروائی کرتے ہوئے سڑکوں، فٹ پاتھوں اور عوامی گزرگاہوں پر قائم غیر قانونی قبضے ہٹا دیے گئے ہیں، جبکہ ناواگئی بازار میں قائم عارضی اور مستقل تجاوزات پر دکانداروں کو تحریری نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں۔
انتظامیہ نے واضح ہدایت کی ہے کہ مستقل تعمیرات خود ہٹانے کے لیے محض ایک دن کی مہلت دی گئی ہے اور احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے، گرفتاریوں اور بھاری جرمانوں کا سخت فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور کو دوبارہ ‘پھولوں کا شہر’ بنانے کا عزم، رنگ روڈ صاف، اب اندرونِ شہر میں بلڈوزر چلانے کی تیاری
اس کارروائی کا بنیادی مقصد ٹریفک کی بلا تعطل روانی اور شہریوں کے لیے آسان آمدورفت کو یقینی بنانا ہے، جس کے لیے عوام اور تاجروں سے انتظامیہ سے تعاون کی اپیل بھی کی گئی ہے۔
دوسری جانب تحریکِ انتشار کے 13 سالہ اقتدار کے دوران پشاور کو شدید نظرانداز کیے جانے کا نتیجہ یہ نکلا تھا کہ شہرِ گلاب گندگی، بند نالیوں اور ابلتے ہوئے گٹروں کا گڑھ بن چکا تھا۔
اس تاریخی کوتاہی کے مداوا کے لیے پشاور ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے چغلپورہ سے جھگڑا تک مین شاہراہ پر خصوصی صفائی آپریشن اور نالیوں و گٹروں کی بلاکج دور کرنے کی مہم تیزی سے جاری ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ہنگامی صفائی پروگرام میں 9 خصوصی ٹیمیں شہری علاقوں کے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے متحرک ہیں تاکہ گندے پانی کا بہاؤ یقینی بنایا جا سکے۔
صوبائی حکومت نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ نالیوں اور سڑکوں پر کچرا پھینکنے سے گریز کریں تاکہ پشاور کو اس کی اصل اور نکھری ہوئی شکل میں بحال کیا جا سکے۔





