لاہور کے تاریخی قذافی اسٹیڈیم میں کرکٹ کی تاریخ کا ایک ایسا سنسنی خیز اور روگ کھڑا کرنے والا معرکہ پیش آیا ہے جسے شائقین کرکٹ کبھی فراموش نہیں کر پائیں گے۔
سہ ملکی ون ڈے سیریز کے چوتھے انتہائی اہم میچ میں پاکستانی آل راؤنڈر شاداب خان نے ایک ناقابلِ یقین اور تاریخ ساز اننگز کھیل کر ون ڈے کرکٹ کے تمام پرانے ریکارڈز دنگ کر دیے اور پاکستان کو ایک ایسی ہار کے منہ سے نکالا جہاں شکست کے بادل مکمل طور پر منڈلا رہے تھے۔
انگلینڈ کی ٹیم کے خلاف اس میچ میں پاکستان کو جیت کے لیے 242 رنز کا ہدف ملا۔ بظاہر ہدف اتنا بڑا نہیں تھا مگر قومی ٹیم کے مایہ ناز بلے باز ہدف کے تعاقب میں شدید مشکلات کا شکار ہو گئے اور یکے بعد دیگرے وکٹیں گرنے سے شکست کے سیاہ سائے گہرے ہوتے چلے گئے ـ۔
ایسے انتہائی دباؤ اور خوفناک لمحوں میں کریز پر قدم رکھنے والے شاداب خان نے وہ کارنامہ انجام دیا جو صدیوں میں کبھی کبھار ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔
انہوں نے ذمہ داری اور جارحیت کا انوکھا امتزاج پیش کرتے ہوئے صرف 96 گیندوں پر ناقابلِ شکست 113 رنز کی بمباری جیسی اننگز کھیلی اور اپنے ون ڈے کیریئر کی پہلی یادگار سنچری مکمل کی۔
یہ بھی پڑھیں : ون ڈے کرکٹ میں شاہین آفریدی کا نیا ریکارڈ
اس دھواں دار اننگز نے سابق لیجنڈری آل راؤنڈر عبدالرزاق کے سنہری دور کی یادیں تازہ کر دیں جو دباؤ کے لمحات میں میچ کا پسا ہوا رخ پلٹنے کے لیے پوری دنیا میں جانے جاتے تھے۔
شاداب خان کی اس ممکنہ شکست کو فتح میں بدلنے والی اننگز نے عالمی ریکارڈ بک میں ہلچل مچا دی
شاداب خان ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں آٹھویں یا اس سے نچلے نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے سب سے بڑا انفرادی اسکور بنانے والے دنیا کے نمبر ون کھلاڑی بن گئے ہیں۔
دوسری طرف جب ٹیم کے نو کھلاڑی پویلین لوٹ چکے تھے اور امیدیں دم توڑ چکی تھیں تب شاداب خان نے حارث رؤف کے ساتھ مل کر آخری وکٹ پر 89 رنز کی ناقابلِ شکست اور تاریخی شراکت قائم کی۔
دونوں کھلاڑیوں نے پتھر جیسے دباؤ میں غیرمعمولی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کو ایک وکٹ سے سنسنی خیز فتح دلا دی۔
یہ بھی پڑھیں : راولپنڈی میں بڑا معرکہ: انگلینڈ چت، پاکستان نے آسٹریلیا سے پوزیشن چھین لی!
اس ہلا دینے والی شراکت نے ون ڈے کرکٹ میں ہدف کا کامیاب تعاقب کرتے ہوئے دسویں وکٹ کے لیے قائم 51 سالہ پرانا عالمی ریکارڈ بھی ریزہ ریزہ کر دیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل یہ ریکارڈ ویسٹ انڈیز کے ڈیرک مرے اور اینڈی رابرٹس کے پاس تھا جنہوں نے 1975 کے ورلڈ کپ میں پاکستان کے خلاف دسویں وکٹ پر 64 رنز جوڑے تھے۔





