اسلام آباد: وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کے حوالے سے نئے اور سخت ضابطہ جاتی قواعد 2026ء کا نفاذ کر دیا ہے، جس کے تحت سرکاری عہدیداروں کی جانب سے 300 ڈالر تک کی مالیت کے تحائف تخمینہ شدہ مارکیٹ ویلیو ادا کر کے ذاتی ملکیت میں رکھنے کا سابقہ راستہ مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
توشہ خانہ کے 2023ء کے طریقۂ کار اور 2026ء کے نئے قواعد کے تقابلی جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ اب وہ تمام تحائف توشہ خانہ میں جمع کرانا لازمی ہوں گے جنہیں سفارتی یا ثقافتی وجوہات کی بنا پر وصول کرنے سے انکار نہ کیا جا سکتا ہو، جبکہ ان کی کھلی نیلامی کا طریقہ کار بھی طے کر دیا گیا ہے۔
تاہم نئے قواعد میں کابینہ سیکریٹری کی سربراہی میں قائم ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ نوادرات، تاریخی اشیاء سمیت قیمتی اور سفارتی لحاظ سے حساس تحائف کو عمومی نیلامی کے عمل سے مستثنیٰ قرار دینے کا فیصلہ کرے۔
اس کمیٹی میں وزارتِ خزانہ، خارجہ، قانون اور ثقافت کے اعلیٰ نمائندے شامل ہوں گے۔ قواعد واضح کرتے ہیں کہ نیلامی سے استثنیٰ کا مطلب تحفہ وصول کرنے والے کی ذاتی ملکیت نہیں ہوگا، بلکہ اس کا بنیادی مقصد حساس اشیاء کی درجہ بندی اور دیکھ بھال کا تعین کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : خستہ حال دیواریں، بوسیدہ چھتیں، بنوں میں معصوم بچیاں خوف کے سائے تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور
توشہ خانہ 2026ء کے نظام میں تحائف کی شفاف قیمت کے تعین کے لیے ایک مستحکم نظام وضع کیا گیا ہے، جس کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) اور نجی شعبے کا تخمینہ کار تحفے کی مارکیٹ ویلیو کا اندازہ لگائیں گے، اور 25 فیصد سے زائد فرق کی صورت میں تیسرے تخمینہ کار کی خدمات لی جائیں گی۔
تین ماہ سے پرانے تخمینے کو نیلامی کی بنیادی قیمت کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔ نیلامی کا عمل مکمل طور پر کھلا ہوگا اور اس کی براہِ راست میڈیا کوریج کی جائے گی، جبکہ سرکاری عہدیداروں اور ان کے اہل خانہ کو نیلامی میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ڈیرہ اسماعیل خان زَرکانی میں 5 خوارجیوں کو ڈھیر کرنے کے بعد سیکیورٹی فورسز کا ہیرو جوان شہید
مزید برآں تحائف کے تمام ریکارڈز، تخمینہ شدہ اور فروخت شدہ قیمتیں ایک آن لائن پورٹل پر ماہانہ بنیادوں پر شائع کی جائیں گی، تاہم تحفہ دینے والے شخص یا ملک کا نام ظاہر نہیں کیا جائے گا۔ توشہ خانہ کا سالانہ بنیادوں پر تھرڈ پارٹی آڈٹ لازمی قرار دیا گیا ہے اور نیلامی سے حاصل ہونے والی تمام رقم ایک الگ اکاؤنٹ میں جمع کی جائے گی، جسے ملک کے پسماندہ علاقوں میں لڑکیوں کی ابتدائی تعلیم پر خرچ کیا جائے گا۔
بیوروکریسی کے ذرائع کے مطابق اصل امتحان ان استثنیٰ کی شقوں پر بلا تفریق عمل درآمد اور نیلامی سے باہر رکھی جانے والی اشیاء کا شفاف حساب کتاب فراہم کرنا ہوگا۔





