پشاور: مشیرِ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ ثمر ہارون بلور نے ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشن کے دوران 6 دہشت گردوں کی ہلاکت کو اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
انہوں نے آپریشن کے دوران نائب حوالدار غلام مرتضیٰ اور سپاہی تاثیر احمد کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے جوان پوری قوم کا فخر ہیں۔
ثمر ہارون بلور نے اپنے بیان میں کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں قابلِ فخر ہیں۔ دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائیاں ملک میں امن و استحکام کے قیام اور عوام کے تحفظ کے لیے فورسز کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے سکیورٹی فورسز کی خدمات اور قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں۔ وطن کی حفاظت اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے والے جوانوں کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، جبکہ پوری قوم اپنے شہدا پر فخر کرتی ہے۔
مشیرِ اطلاعات نے نائب حوالدار غلام مرتضیٰ اور سپاہی تاثیر احمد کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کی۔
یہ بھی پڑھیں : ڈیرہ اسماعیل خان زَرکانی میں 5 خوارجیوں کو ڈھیر کرنے کے بعد سیکیورٹی فورسز کا ہیرو جوان شہید
ان کا کہنا تھا کہ وہ اس مشکل گھڑی میں غمزدہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے ان جوانوں کی قربانیاں قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں۔
ثمر ہارون بلور نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جدوجہد جاری رکھنا ہوگی۔ خیبرپختونخوا میں پائیدار امن کا قیام ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جس کے لیے قومی اتحاد، مضبوط عزم اور سکیورٹی فورسز کی مسلسل کوششیں ناگزیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کی قربانیاں قوم کے امن کے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔ عوام کے تحفظ اور امن و امان کے قیام کے لیے فورسز کی کوششیں قابلِ ستائش ہیں اور ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
مشیرِ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ ملک میں پائیدار امن کے قیام اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے قومی سطح پر مشترکہ کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔





