پشاور : خیبر پختونخوا میں سرکاری زمینوں کی واگزاری اور قائم تجاوزات کے خاتمے کے لیے صوبائی انتظامیہ نے تاریخی تحرک کا آغاز کر دیا ہے۔
پشاور سمیت صوبہ بھر کے اضلاع میں قبضہ مافیا اور بااثر افراد کے خلاف بھاری مشینری کے ساتھ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، جس کے تحت اب تک 450 سے زائد غیر قانونی تعمیرات کو زمین بوس کر کے اربوں روپے کی سرکاری اراضی واگزار کرائی جا چکی ہے۔
پشاور رنگ روڈ پر بلڈوزرز کا دھاوا
ضلعی انتظامیہ پشاور اور پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) نے رنگ روڈ اور ملحقہ شاہراہوں پر کارروائی کرتے ہوئے 450 سے زائد دکانوں، مارکیٹوں اور پکے ڈھانچوں کو مسمار کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : دھرنوں کی سیاہ رات ختم: پشاور فیسٹیول نے شہر کا نقشہ بدل دیا،عوام کی بھرپور شرکت
پی ڈی اے قوانین کے تحت رنگ روڈ کے دونوں اطراف 52 فٹ کی حد تک کسی قسم کی تعمیرات کی اجازت نہیں، تاہم ماضی میں بااثر افراد کی قائم کردہ غیر قانونی عمارتوں کو اب بلڈوزرز کے ذریعے صفایا کیا جا رہا ہے۔ جمیل چوک، پیرزکوڑی فلائی اوور اور پشتخرا چوک میں ہیوی مشینری کا آپریشن تیزی سے جاری ہے۔
ورسک، چارسدہ اور کوہاٹ روڈ پر مزید سخت ایکشن کا فیصلہ
کمشنر پشاور ڈویژن کیپٹن (ر) خالد محمود کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ آپریشن کا دائرہ کار ورسک روڈ، چارسدہ روڈ اور کوہاٹ روڈ تک بڑھایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : ڈی آئی خان آپریشن میں 6 دہشت گرد ہلاک، شہید جوان پوری قوم کا فخر ہیں، ثمر ہارون بلور
اجلاس میں واضح ہدایت کی گئی کہ واگزار کروائی گئی اراضی پر دوبارہ قبضے کی ہر کوشش ناکام بنائی جائے اور منظور شدہ نقشوں سے تجاوز کرنے والوں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
سوات، مہمند، صوابی اور باجوڑ میں بھی ایکشن تیز
تجاوزات کے خلاف مہم کا دائرہ صوبے کے دیگر اضلاع تک پھیلا دیا گیا ہے۔ ضلع مہمند کے غلنئی اور مین منڈی بازاروں میں ٹریفک کی روانی کے لیے غیر قانونی اڈے ختم کر دیے گئے ہیں، جبکہ سوات کے چارباغ، سالنڈہ منگلور اور بریکوٹ بازاروں، صوابی کے اسماعیلہ و ادینہ، بٹگرام اور تنگی تا چارسدہ روڈ پر بھی مارکنگ کے بعد آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔





