خیبرپختونخوا حکومت کے آج پیش کیے جانے والے بجٹ 2026-27 کے فنانس بل میں متعدد موجودہ ٹیکسز برقرار رکھنے اور بعض ٹیکسز میں ترامیم کی تجویز دی گئی ہے۔
فنانس بل کے ذرائع کے مطابق تمام رہائشی جائیدادوں کے بقایاجات کی یکمشت ادائیگی پر 30 فیصد رعایت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ رعایت 30 جون 2026 تک واجبات ادا کرنے والوں کو حاصل ہوگی جبکہ 31 دسمبر 2026 تک بقایاجات ادا نہ کرنے والوں پر جرمانے عائد کیے جائیں گے۔
فنانس بل میں موٹر رکشہ اور ٹرائی ویلرز پر ایک ہزار روپے سالانہ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
چار نشستوں والی گاڑیوں کے لیے 1500 روپے جبکہ چھ نشستوں والی گاڑیوں کے لیے 2000 روپے سالانہ ٹیکس مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
اسی طرح 15 نشستوں تک کی گاڑیوں پر فی نشست 400 روپے اور 15 سے زائد نشستوں والی گاڑیوں پر فی نشست 500 روپے سالانہ ٹیکس لینے کی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ہوٹلوں پر سال میں ایک مرتبہ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز بھی فنانس بل کا حصہ ہے، جوائنٹ آف سیل سسٹم سے منسلک ہوٹلوں سے کمروں اور بکنگ کی بنیاد پر 5 فیصد ٹیکس وصول کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا
فنانس بل میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ جن ہوٹلوں میں جوائنٹ آف سیل سسٹم موجود نہیں ہوگا ان سے دستیاب رہائشی یونٹس کی تعداد کے 50 فیصد کی بنیاد پر حقیقی کمرہ کرایہ کے 10 فیصد کے حساب سے ٹیکس وصول کیا جائے گا۔
جون 2026 تک واجبات کی یکمشت ادائیگی پر 20 فیصد رعایت دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔





