رانی عندلیب
خیبر میڈیکل یونیورسٹی(کے ایم یو )کے انسٹیٹیوٹ آف فارماسیوٹیکل سائنسز (آئی پی ایس ) کے فائنل ایئر کے طلبہ نے ہسپتال میں فارماسسٹ کی چار آسامیوں پر بھرتی کے عمل کی شفافیت کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
طلبہ کے مطابق ان کے شعبے کے آفیشل واٹس ایپ گروپ میں ان آسامیوں سے متعلق ایک پیغام شیئر کیا گیا تھا، جس میں بتایا گیا کہ امیدواروں کا انتخاب پائینیئر بیچ سے کیا جائے گا۔ اس پر تقریباً 55 طلبہ نے دلچسپی کا اظہار کیا جنہیں ایک علیحدہ گروپ میں شامل کر کے یہ کہا گیا کہ اہلیت کا معیارجلد شیئر کیا جائے گا۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ دو روز بعد جب کلاس ریپریزینٹیٹو نے بھرتی کے عمل سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تو مبینہ طور پر انہیں کہا گیا کہ وہ فی الحال اپنی فائنل ایئر کی امتحانی تیاری پر توجہ دیں۔ اس پر طلبہ نے یہ سمجھا کہ بھرتی کا عمل امتحانات کے بعد تک عارضی طور پر موخر کر دیا گیا ہے۔
تاہم بعد میں طلبہ کو معلوم ہوا کہ مبینہ طور پر امیدواروں کا انتخاب پہلے ہی کر لیا گیا تھا جبکہ نہ تو اہلیت کا معیار باضابطہ طور پر جاری کیا گیا اور نہ ہی دیگر دلچسپی رکھنے والے طلبہ کو درخواست دینے کا مساوی اور شفاف موقع فراہم کیا گیا۔
طلبہ کا موقف ہے کہ ان کے تحفظات کسی منتخب امیدوار کے خلاف نہیں بلکہ بھرتی کے طریقہ کار پر ہیں۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ آیا تمام اہل طلبہ—بشمول نمایاں تعلیمی کارکردگی اور اعلیٰ نمبر حاصل کرنے والے امیدواروں—کو یکساں اور منصفانہ موقع فراہم کیا گیا یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں : حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں غیر قانونی بھرتیوں کا معاملہ، ہسپتال ڈائریکٹر کا سیکرٹری ہیلتھ اور اینٹی کرپشن کو خط، انکوائری کا مطالبہ
طلبہ نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق، رجسٹرار عنایت اللہ وزیر، ڈائریکٹر آئی پی ایس پروفیسر ڈاکٹر سمیع سراج اور انسٹیٹیوٹ آف فارماسیوٹیکل سائنسز کی فیکلٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کا شفاف اور غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے اور یہ یقینی بنایا جائے کہ بھرتی کا عمل میرٹ، شفافیت اور مساوی مواقع کے اصولوں کے مطابق مکمل ہو۔





