تیل کی بڑھتی قیمتوں، مہنگائی کے خدشات اور امریکی فیڈرل ریزرو کی پالیسی سے متعلق توقعات نے سونے کی قیمتوں پر دباؤ بڑھا دیا، جس کے باعث سرمایہ کار محتاط ہو گئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے، جس کے اثرات صرافہ مارکیٹ پر بھی پڑنے کا امکان ہے۔ سرمایہ کاروں کی محتاط حکمت عملی، تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی فیڈرل ریزرو کے آئندہ اجلاس سے متعلق خدشات کے باعث سونے کی قیمتوں پر دباؤ آیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت میں 0.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد سونا 4 ہزار 103 ڈالر 39 سینٹ فی اونس کی سطح پر آ گیا۔ اس سے قبل بدھ کے روز سونے کی قیمت 7 جولائی کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچتے ہوئے 4 ہزار 165 ڈالر 87 سینٹ فی اونس تک جا پہنچی تھی۔
اسی طرح امریکی گولڈ فیوچر کی قیمت میں بھی کمی دیکھی گئی، جو 1.1 فیصد کمی کے بعد 4 ہزار 106 ڈالر 40 سینٹ فی اونس پر آ گئی۔
ماہرین کے مطابق سونے کی قیمت میں کمی کی بڑی وجہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سرمایہ کاروں کی جانب سے آئندہ امریکی مالیاتی پالیسی کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کرنا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی بڑھنے کے خدشات پیدا ہوئے، جس کے باعث امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات مضبوط ہوئے اور سونے کی قیمت دباؤ میں آگئی۔
انڈس انڈ بینک سیکیورٹیز کے سینئر ریسرچ اینالسٹ جیگر ترویدی کے مطابق توانائی کی بلند قیمتیں مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ کر رہی ہیں، جبکہ شرح سود میں ممکنہ اضافے کی توقعات سونے کی قیمتوں میں مزید اضافے کی رفتار کو محدود کر رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بھی گزشتہ چھ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ اس اضافے کی وجوہات میں مشرق وسطیٰ کی کشیدگی، امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائیاں اور بحیرہ احمر میں آئل ٹینکرز کو درپیش خطرات شامل ہیں۔
دوسری جانب امریکی ڈالر کی قدر میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث دیگر کرنسیوں میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے سونا نسبتاً سستا ہوگیا۔ تاہم امریکی دو سالہ ٹریژری بانڈز کی پیداوار میں اضافہ دیکھا گیا، کیونکہ سرمایہ کار توانائی کی سپلائی متاثر ہونے اور مہنگائی دوبارہ بڑھنے کے خدشات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق امریکی فیڈرل ریزرو کے آئندہ اجلاس میں شرح سود برقرار رہنے کا امکان ہے، تاہم رواں سال کے اختتام تک شرح سود میں اضافے کی توقعات بھی مارکیٹ میں موجود ہیں۔
عالمی مارکیٹ میں دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھی گئی۔ چاندی کی قیمت 1.3 فیصد کمی کے بعد 58.90 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 1 فیصد کمی کے بعد 1 ہزار 628 ڈالر 63 سینٹ جبکہ پیلیڈیم 1.2 فیصد کمی کے بعد 1 ہزار 274 ڈالر 96 سینٹ فی اونس پر آ گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی معاشی صورتحال، تیل کی قیمتوں اور امریکی مالیاتی پالیسی کے فیصلے آنے والے دنوں میں سونے کی قیمتوں کے رجحان کا تعین کریں گے۔





