انڈے کھانے سے دل کی بے قاعدہ دھڑکن اور فالج کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، نئی تحقیق

واشنگٹن: ایک نئی طبی تحقیق میں انڈے سمیت بعض غذاؤں کے استعمال اور دل کی ایک خطرناک بے قاعدہ دھڑکن ایٹریل فبریلیشن (Atrial Fibrillation) کے درمیان تعلق سامنے آیا ہے، جس کے باعث فالج (اسٹروک) کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق سائنسدانوں نے خون میں موجود ایک مرکب ٹرائی میتھائل امائن این آکسائیڈ (TMAO) اور ایٹریل فبریلیشن کے درمیان تعلق دریافت کیا ہے۔ یہ مرکب جسم میں اس وقت بنتا ہے جب آنتوں میں موجود بیکٹیریا بعض غذائی اجزاء، خاص طور پر کولین اور کارنیٹین کو توڑتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق کولین اور کارنیٹین جیسے اجزاء انڈے کی زردی، گائے کے گوشت، کلیجی اور دیگر غذاؤں میں پائے جاتے ہیں۔ جسم میں ان کے ہاضمے کے عمل کے دوران بننے والا ٹی ایم اے او دل کی بے ترتیب دھڑکن کے خطرے سے منسلک پایا گیا ہے۔

تحقیق کے دوران امریکہ کے تقریباً 5 ہزار افراد کے خون کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جن افراد کے خون میں ٹی ایم اے او کی سطح زیادہ تھی، ان میں ایٹریل فبریلیشن کا خطرہ ان افراد کے مقابلے میں تقریباً 70 فیصد زیادہ تھا جن کے خون میں اس مرکب کی سطح کم تھی۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ تعلق دیگر عوامل، جن میں بڑھتی عمر، ہائی بلڈ پریشر اور موٹاپا شامل ہیں، کو مدنظر رکھنے کے بعد بھی برقرار رہا۔

ایٹریل فبریلیشن کیا ہے؟

ایٹریل فبریلیشن دل کی ایسی کیفیت ہے جس میں دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو جاتی ہے۔ یہ مسئلہ آگے چل کر دل کی کمزوری (ہارٹ فیل) اور فالج کا سبب بن سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس بیماری میں مبتلا افراد میں فالج کا خطرہ عام افراد کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : دیت کتنی ہو گئی؟ وفاقی حکومت نے نئی رقم مقرر کر دی

یہ تحقیق جرنل آف کلینیکل انویسٹیگیشن میں شائع کی گئی ہے۔ تحقیق میں شامل ماہرین کے مطابق موجودہ علاج زیادہ تر بیماری کو قابو کرنے پر توجہ دیتے ہیں، تاہم نئی دریافت سے یہ امکان پیدا ہوا ہے کہ خوراک اور جسم کے اندر ہونے والے کیمیائی عمل کو بہتر بنا کر بیماری کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔

تحقیق کے سینئر مصنف اور کلیولینڈ کلینک کے الیکٹرو فزیالوجسٹ رابرٹ کوئتھ کے مطابق تجربات میں ایسے چوہوں میں ایٹریل فبریلیشن جلد پیدا ہوئی جنہیں ایسی خوراک دی گئی جس سے جسم میں ٹی ایم اے او کی مقدار بڑھ گئی۔

محققین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایسے علاج پر کام کیا جا سکتا ہے جو آنتوں میں موجود بیکٹیریا کو کولین کو ٹی ایم اے او میں تبدیل کرنے سے روک سکے، جس سے ایٹریل فبریلیشن کے خطرے کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق غذاؤں، آنتوں کے بیکٹیریا اور دل کی صحت کے درمیان تعلق کو سمجھنے کے لیے اہم پیش رفت ہے، تاہم خوراک کے اثرات کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہوگی۔

Scroll to Top