مخالفین کو مبارکباد دینے کا اخلاقی حوصلہ پیدا کریں

سیاسی اختلافات کے باوجود جمہوری نظام کے استحکام کے لیے مل کر کردار ادا کرنا ہوگا، اختیار ولی

اسلام آباد: وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی نے کہا ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود تمام جماعتوں کو جمہوری نظام کے استحکام کے لیے مشترکہ کردار ادا کرنا چاہیے۔

اگر کسی جماعت یا فریق کو حکومت کی پالیسیوں یا اقدامات پر اعتراض ہے تو اسے سامنے لایا جائے تاکہ معاملات کو بہتر انداز میں حل کیا جا سکے۔

ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اختیار ولی نے کہا کہ مہاجرین کی نشستوں کے معاملے پر مختلف حلقوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا، تاہم حکومت نے کالعدم قرار دی گئی ایکشن کمیٹی کے متعدد مطالبات تسلیم کرتے ہوئے صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس معاملے پر اپنی ذمہ داری پوری کی اور مختلف امور پر پیش رفت بھی ہوئی۔

اختیار ولی نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ فارم 47 کا معاملہ ماضی میں پاکستان تحریک انصاف کے بیانیے کا حصہ رہا ہے، اس لیے بلاول بھٹو کو اس انداز میں تنقید نہیں کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اگر انتخابی معاملات پر اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں تو پھر ان عہدوں پر بھی بات ہونی چاہیے جن کا تعلق مختلف آئینی اداروں سے ہے۔

یہ بھی پڑھیں : میرپور ڈویژن انتخابات: بلاول بھٹو کا دھاندلی کا الزام، 8 نشستیں واپس لینے کا عزم

ان کا کہنا تھا کہ اگر استعفوں کی بات کی جائے تو اس کا آغاز ایوانِ صدر سے ہونا چاہیے، جبکہ ڈپٹی اسپیکر، چیئرمین سینیٹ، وزیراعلیٰ بلوچستان اور گورنر خیبرپختونخوا کے عہدوں کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر نے الزام عائد کیا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے فراہم کیے گئے فنڈز گلگت بلتستان کے انتخابات میں استعمال ہوئے، جبکہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں بھی ان فنڈز کے استعمال کا معاملہ سامنے آ رہا ہے۔ تاہم انہوں نے اپنے دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔

اختیار ولی نے کہا کہ حکومت تنقید کو مثبت انداز میں لیتی ہے۔ اگر حکومت سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو بلاول بھٹو اس کی نشاندہی کریں، حکومت خود کو درست کرنے کی کوشش کرے گی۔ اسی طرح اگر اپوزیشن کی جانب سے کوئی غلطی ہوگی تو حکومت بھی اپنی رائے دے گی تاکہ مشاورت کے ذریعے جمہوری عمل کو مضبوط بنایا جا سکے۔

انہوں نے زور دیا کہ سیاسی اختلافات کو محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، کیونکہ ملک میں جمہوریت کا استحکام تمام سیاسی جماعتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

Scroll to Top