صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہبازشریف نے یومِ استحصالِ کشمیر پر اپنے خصوصی پیغامات میں کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار اور منصفانہ امن کا قیام تنازع جموں و کشمیر کے پرامن حل سے جڑا ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہیں۔
صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی قانونی حیثیت کو یکطرفہ تبدیل کرنے کے غیرقانونی عمل کو 7 برس مکمل ہوگئے، آج سرحد کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں رہنے والے کشمیری یومِ استحصال منائیں گے۔
صدر نے کہا کہ بھارت نے بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی کی، بھارت نے جموں وکشمیر کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی اقدامات تنازع کشمیر کی قانونی حیثیت کو تبدیل کر نہیں سکتے، تمام مشکلات کےباوجود مقبوضہ جموں وکشمیرکےعوام مستقبل کے فیصلے،جائزحق کیلئےثابت قدم ہیں، پاکستان مقبوضہ جموں کشمیرکے عوام کی اخلاقی،سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ تمام مشکلات کے باوجود کشمیری عوام کاحوصلہ، استقامت اور ثابت قدمی آج بھی غیرمتزلزل ہے، تنازع کشمیر جنوبی ایشیامیں امن واستحکام کیلئے سب سے بنیادی اور دیرینہ حل طلب مسئلہ ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی برادری کو محض تشویش کے اظہار تک محدود رہنے کے بجائے تنازع کے منصفانہ دیرپا حل کیلئے ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا، جموں و کشمیرکے تنازعہ کا منصفانہ اور پرامن حل پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے، پاکستان کشمیری عوام کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت ہر سطح پر جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان کشمیریوں کی آواز کو ہرعلاقائی اوربین الاقوامی فورم پر پوری قوت سے بلند کرتا رہے گا، بین الاقوامی برادری بھارتی زیرقبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بند کرائے، بھارت اگست 2019ء سے مقبوضہ کشمیر میں نافذ غیرقانونی اور یکطرفہ اقدامات واپس لے۔





