یومِ شہدائے پولیس:شہداء کی قربانیوں کے مقروض ہیں، دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، کور کمانڈر پشاور

کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل محمد عمر بخاری نے کہا ہے کہ آج شہداء اور غازیوں کے لواحقین ہمارے مہمانِ خصوصی اور محسن ہیں اور ہم ان کی عظیم قربانیوں کے مقروض ہیں۔

یومِ شہدائے پولیس خیبر پختونخوا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حکومت اور ریاست ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور جس مقصد کے لیے ہمارے جوانوں نے اپنی سب سے عزیز شے یعنی جان قربان کی، ہم اس مقصد کو ہر صورت حاصل کریں گے اور ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کر کے ہی دم لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پر دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کی جنگ مسلط کی گئی ہے، اس لیے پورے ملک کا فرض بنتا ہے کہ وہ یکجا ہو کر دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملائے۔ تمام ریاستی ادارے اور عوام ملک کے نظریے اور جغرافیے کے تحفظ کے لیے اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کریں۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بے گناہ لوگوں کا خون بہایا جا رہا ہے، جبکہ ہمارا دین سکھاتا ہے کہ ایک بے گناہ کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ اس ناسور کے خاتمے کے لیے وطن اور دین کی حفاظت کی خاطر ہم سب کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : میٹرک نتائج : پشاور بورڈ کے ہزاروں طالب علم آخر کس مضمون میں ناکام ہوئے؟

لیفٹیننٹ جنرل عمر بخاری نے زور دیا کہ معرکہ حق کی طرح اس جنگ میں بھی ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے پولیس کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانی پولیس نے دی ہے جہاں ہزاروں اہلکار شہید ہوئے اور صرف اس سال 150 پولیس جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اس کے علاوہ فیڈرل کانسٹیبلری اور فرنٹیئر کور کے ہزاروں جوانوں جبکہ گزشتہ دو دہائیوں میں پاک فوج کے ساڑھے چھ ہزار افسران و جوانوں نے بھی قربانیاں دیں۔

کور کمانڈر پشاور کا مزید کہنا تھا کہ پولیس ایک آسان ہدف ہے جسے سب سے زیادہ نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور مکار دشمن پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے درمیان دراڑ ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے تاہم کسی بھی ادارے کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ شہیدوں کے بچوں کے حوصلے بلند ہیں ۔ ہم سب مل کر اس بزدل دشمن کو شکست دیں گے اور ملک میں امن قائم کریں گے۔

Scroll to Top