افغانستان میں غذائی بحران سنگین، بچوں کی اموات میں اضافے کا خدشہ

کابل: اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں خوراک کی تقسیم کے پروگراموں میں کمی اور مالی وسائل کی شدید قلت کے باعث بچوں میں غذائی قلت خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے، جس کے نتیجے میں بچوں کی اموات میں اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

ڈبلیو ایف پی کے افغانستان میں کنٹری ڈائریکٹر جان ایلیف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بچوں کی اموات کو روکنے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں اور انسانی امداد کے پروگراموں کو جاری رکھنے کے لیے مزید وسائل کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور کی ترجمان اولگا چیرویوکو کے مطابق رواں سال افغانستان کے تین چوتھائی سے زائد علاقوں میں بچوں میں شدید غذائی قلت کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بڑی تعداد میں بچے انتہائی تشویشناک حالت میں صحت مراکز پہنچ رہے ہیں، جبکہ بعض بچے بروقت علاج نہ ملنے کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : مستقلی کا اعلامیہ جاری نہ ہونے پر پشاور ہائیکورٹ کے 4 ججز غیر فعال ہوگئے

عالمی خوراک پروگرام کے مطابق امدادی فنڈز میں کمی کے باعث 2025 میں افغانستان کے 142 صحت مراکز بند ہو گئے، جس کے نتیجے میں 13 ہزار سے زائد بچے غذائی قلت کے علاج سے محروم ہوگئے۔

ڈبلیو ایف پی کا کہنا ہے کہ رواں سال افغانستان میں تقریباً 37 لاکھ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہوسکتے ہیں، جبکہ 12 لاکھ حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو بھی غذائی کمی کا سامنا رہے گا۔

ادارے کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور پاکستان کی سرحد طویل عرصے تک بند رہنے کے باعث غذائی اشیا کی فراہمی بھی متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں تقریباً 10 لاکھ خواتین اور بچے پانچ ماہ تک ضروری غذائی معاونت سے محروم رہے۔

اقوام متحدہ نے افغانستان میں بڑھتے ہوئے غذائی بحران پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات اور انسانی امداد میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔

Scroll to Top