کسی ملک کو بھی ہدف نہیں بنایا جائیگاجب تک وہ معاہدے کے کسی رکن ملک پر حملہ نہ کرے، ترک وزیر خارجہ

کسی ملک کو بھی ہدف نہیں بنایا جائیگاجب تک وہ معاہدے کے کسی رکن ملک پر حملہ نہ کرے، ترک وزیر خارجہ

ترکیہ کے وزیرخارجہ نے کہا کہے کہ یہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ تکنیکی طور پر نیٹو کے آرٹیکل 5 جیسا ہے جس کے تحت کسی ایک رکن پر حملہ تمام ارکان کے خلاف حملہ تصور کیا جاتا ہے۔

انقرہ: ترکیہ کے وزیر خارجہ کے مطابق مشترکہ دفاعی معاہدے کے ذریعے کسی ملک کو بھی ہدف نہیں بنایا جائے گا جب تک وہ معاہدے کے کسی رکن ملک پر حملہ نہ کرے۔

حاکان فیدان نے بتایاکہ اس دفاعی معاہدے کے تحت وزرائے خارجہ کی ایک کمیٹی اور جنرل سیکرٹریٹ بھی قائم کیا جائے گا جو نیٹو کے نظام سے مماثلت رکھتا ہوگا، دفاعی معاہدہ تکنیکی طور پر نیٹو کے آرٹیکل 5 جیسا ہے جس کے تحت کسی ایک رکن پر حملہ تمام ارکان کے خلاف حملہ تصور کیا جاتا ہے۔،

انہوں نے مزید کہا کہ بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کی سلامتی ترکیے کے مفادات سے متعلق ہے، اس لیے ترکیے کو سعودی عرب کی جانب سے قائم کی جانے والی بین الاقوامی اتحادی کوششوں میں شامل ہونا چاہیے۔

  یہ بھی پڑھیں : مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کسی کے خلاف نہیں، خطے میں امن لائے کیلئے ہے،ترک صدر رجب طیب اردوان

ترکیےکے وزیرخارجہ نے دفاعی معاہدے میں مصر کی شمولیت کا امکان ظاہر کرتے ہوئےکہا کہ کچھ تکنیکی معاملات حل ہونے کے بعد ممکن ہے کہ مصر دفاعی معاہدے میں شامل ہوجائے۔

Scroll to Top