پشاور: عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا کے صدر میاں افتخار حسین نے جامعہ پشاور کے مختلف شعبہ جات کو ضم کرنے کی تجویز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شعبہ جات کو ختم کرنے کے بجائے ان کی کارکردگی اور طلبہ کے داخلوں میں کمی کی وجوہات کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔
میاں افتخار حسین نے اپنے بیان میں کہا کہ پختونخوا کے تعلیمی ادارے مسلسل ناکام پالیسیوں اور مختلف تجربات کی زد میں ہیں۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں جامعات میں نئے شعبہ جات اور تحقیقی مراکز قائم کیے جا رہے ہیں، جبکہ صوبے میں موجود شعبہ جات کو ضم کرنے کے نام پر ختم کرنے کی تجاویز سامنے آ رہی ہیں۔
اے این پی رہنما کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال صوبائی حکومت کی تعلیمی ترجیحات اور پالیسیوں پر سوالات اٹھاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی بحران کے باعث سرکاری جامعات کے تدریسی اور غیر تدریسی ملازمین کی جانب سے تنخواہوں اور پنشنز کی ادائیگی کے لیے احتجاج معمول بنتا جا رہا ہے۔
انہوں نے جامعات کے مالی معاملات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری تعلیمی اداروں کو چلانے کے لیے طلبہ کی فیسوں پر انحصار حکومتی پالیسیوں کی کمزوری ظاہر کرتا ہے۔ ان کے مطابق ایک طرف سبسڈائزڈ تعلیم کی بات کی جاتی ہے، جبکہ دوسری جانب طلبہ سے فی سمسٹر 70 سے 80 ہزار روپے تک فیس وصول کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی محمود خان اچکزئی سے ملاقات، اگلا قدم کیا ہوگا؟
میاں افتخار حسین نے دعویٰ کیا کہ صوبے کے سرکاری ہسپتالوں سے سینئر ڈاکٹرز اور جامعات سے تجربہ کار اساتذہ نجی شعبے کی طرف منتقل ہو رہے ہیں، جبکہ جامعات میں متعدد تدریسی آسامیاں خالی ہونے کے باوجود نئی بھرتیاں نہیں کی جا رہیں۔
انہوں نے کہا کہ پختونخوا کے تعلیمی ادارے مالی اور انتظامی مشکلات کا شکار ہیں، لیکن صوبائی حکومت دیگر سیاسی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو سیاسی سرگرمیوں کے بجائے تعلیم، صحت، روزگار اور امن کے شعبوں میں عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
اے این پی خیبرپختونخوا کے صدر نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ جامعہ پشاور سمیت صوبے کی تمام سرکاری جامعات کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے خصوصی پیکیج کا اعلان کیا جائے۔
انہوں نے خالی تدریسی آسامیوں پر فوری بھرتیاں کرنے، اساتذہ اور ملازمین کی تنخواہوں و پنشنز کی بروقت ادائیگی اور طلبہ پر فیسوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کا بھی مطالبہ کیا۔





