پشاور میں رکشہ چھیننے کی مبینہ کوشش کے دوران مزاحمت کرنے پر 17 سالہ میٹرک کا طالب علم حافظ محمد بلال جاں بحق ہوگیا، جبکہ واقعے کے بعد ملزمان مقتول کا رکشہ لے کر فرار ہوگئے۔
شاہ پور پولیس کو محمد ارشاد ولد حامد جان سکنہ وڈپگہ نے رپورٹ درج کراتے ہوئے بتایا کہ اس کا 17 سالہ بیٹا محمد بلال دسویں جماعت کا طالب علم تھا۔
وہ شام کے وقت رکشہ لے کر گھر سے مزدوری کے لیے نکلا، تاہم رات گئے تک واپس نہ آنے پر اہل خانہ نے اس کی تلاش شروع کردی اور مختلف تھانوں سے بھی رابطہ کیا۔
پولیس کے مطابق بعد ازاں شاہ پور تھانے پہنچنے پر اہل خانہ کو معلوم ہوا کہ عباس ٹاؤن گھڑی بلوچ کے علاقے میں نامعلوم افراد نے بلال کے گلے میں پھندا ڈال کر اسے قتل کردیا ہے۔ مقتول کے والد نے پولیس کو بتایا کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں۔
پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق حافظ بلال بدھو ثمر باغ میں سواری اتارنے کے بعد رکشہ لے کر وڈپگہ میں واقع اپنے گھر واپس جا رہا تھا کہ راستے میں نامعلوم افراد نے اسے روک لیا۔
واقعے کے دوران ملزمان نے مبینہ طور پر رکشہ چھیننے کی کوشش کی اور مزاحمت پر اسے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا، جبکہ اس کا رکشہ بھی ساتھ لے گئے۔
یہ بھی پڑھیں : ہری پور: نامعلوم مسلح شخص کی فائرنگ سے محکمہ صحت کا ملازم جاں بحق
اہل علاقہ اور ورثا کے مطابق حافظ بلال مدرسے میں بھی تعلیم حاصل کر رہا تھا، حافظ قرآن ہونے کے ساتھ مسجد کا مؤذن بھی تھا۔ وہ اپنے والد کا واحد سہارا تھا اور گھر کے اخراجات میں مدد کے لیے چند ماہ قبل پارٹ ٹائم مزدوری شروع کی تھی۔
ورثا کے مطابق مقتول کا والد اور بھائی بھی رکشہ چلاتے ہیں۔ بلال کے پاس موبائل فون موجود نہیں تھا، جس کی وجہ سے رات گئے تک گھر واپس نہ آنے پر اہل خانہ اس سے رابطہ بھی نہیں کرسکے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ بظاہر رہزنی کا معلوم ہوتا ہے، تاہم یہ رہزنی کی واردات تھی یا قتل کی کوئی اور وجہ تھی، اس حوالے سے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ واقعے کی تفتیش کے لیے پولیس نے تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دے دی ہے، جبکہ فرار ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
مقتول کی لاش ضروری کارروائی کے بعد گزشتہ روز مقامی قبرستان میں آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپرد خاک کردی گئی۔





