پشاور: خیبرپختونخوا کے سرکاری اسکولوں میں سربراہان اور اساتذہ کی خالی آسامیوں کو پُر کرنے کے لیے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے تمام ضلعی تعلیمی افسران کو ضروری اقدامات کی ہدایت کردی۔
ڈائریکٹوریٹ آف ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری مراسلے میں صوبے کے تمام مڈل، ہائی اور ہائیر سیکنڈری اسکولوں میں موجود خالی تدریسی اور سربراہان کی آسامیوں سے متعلق تازہ رپورٹس طلب کی گئی ہیں۔
مراسلے کے مطابق تمام ضلعی ایجوکیشن افسران متعلقہ اسکول سربراہان کا اجلاس بلا کر خالی آسامیوں کو پُر کرنے کے لیے جامع تجاویز تیار کریں گے۔
محکمہ تعلیم نے واضح کیا ہے کہ جہاں مناسب خالی آسامی دستیاب ہو وہاں کسی بھی استاد کو او ایس ڈی رکھنے کے بجائے اسے ایڈجسٹ یا تعینات کیا جائے۔
اگر کسی اسکول میں ہیڈ ٹیچر یا ہیڈ ماسٹر کی آسامی خالی ہو اور دستیاب ہیڈ موجود نہ ہو تو ایس ایس ٹی جنرل یا اس سے زیادہ گریڈ کے کسی استاد کو عارضی بنیادوں پر بطور سربراہ تعینات کرنے کی تجویز دی جاسکتی ہے۔
اسی طرح ایسے مڈل اسکول جہاں ایس ایس ٹی یا ہیڈ ماسٹر دستیاب نہیں، وہاں ایس سی ٹی یا ایس ڈی ایم کو ضرورت اور دستیابی کی بنیاد پر بطور سربراہ تعینات کرنے کی تجویز دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : محکمہ صحت خیبرپختونخوا: 7 کولڈ چین ٹیکنیشنز کو سپروائزر کے عہدوں پر ترقی
مراسلے میں ہائی اور ہائیر سیکنڈری اسکولوں میں سائنس اساتذہ کی کمی دور کرنے کے لیے بھی عارضی انتظام کی اجازت دی گئی ہے۔
سائنس ٹیچر دستیاب نہ ہونے کی صورت میں سائنس مضامین میں زیادہ قابلیت رکھنے والے پرائمری اسکول ٹیچرز کو عارضی بنیادوں پر ایسے اسکولوں میں تعینات کرنے کی تجویز پیش کی جاسکتی ہے۔
ہائیر سیکنڈری اسکولوں میں پرنسپل کی آسامی خالی ہونے کی صورت میں قریبی اسکول میں موجود وائس پرنسپل کو ضرورت کے مطابق متعلقہ اسکول میں بطور پرنسپل تعینات کرنے کی تجویز بھی دی جاسکتی ہے۔
محکمہ تعلیم نے ہدایت کی ہے کہ تمام تجاویز اسکول کی حقیقی ضروریات، منظور شدہ خالی آسامیوں، طلبہ کے داخلے اور مضمون وار اساتذہ کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی جائیں اور ارسال کرنے سے قبل ان کی مکمل تصدیق کی جائے۔
تمام ضلعی تعلیمی افسران کو 30 ستمبر 2026 تک متعلقہ حکام کے ناموں سمیت جامع تجاویز ڈائریکٹوریٹ کو جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ مراسلے میں اس عمل کو اعلیٰ ترجیح قرار دیا گیا ہے۔





