اپر وزیرستان میں پی ٹی آئی کارکنان کی شرپسندی شروع، پولیس پر براہِ راست فائرنگ، حالات کشیدہ

 خیبر پختونخوا کے ضلع اپر وزیرستان میں لانگ مارچ کے لیے جانے والے پی ٹی آئی اور انصاف یوتھ ونگ کے انتشاریوں نے پولیس پر اچانک حملہ کر کے شدید پتھراؤاور سیدھی فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں متعدد پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ویڈیو ز کے مطابق اپر وزیرستان سے تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے قافلے کی روانگی کے دوران ماحول اس وقت اچانک پرتشدد ہو گیا جب پی ٹی آئی اور انصاف یوتھ ونگ کے کارکنوں نے وہاں تعینات پولیس اہلکاروں پر حملہ کر دیا۔

انتشاریوں نے نہ صرف پولیس پر شدید پتھراؤ کیا بلکہ ڈائریکٹ فائرنگ بھی کی، جس سے فرائض پر مامور متعدد پولیس جوانوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اچانک ہونے والے اس حملے سے علاقے میں شدید بھگدڑ اور خوف و ہراس پھیل گیا۔

ذرائع کے مطابق مارچ کے آغاز اور مختلف جمع بندی مقامات پر کارکنان کے درمیان تلخ کلامی، گالم گلوچ، دھکم پیل اور ہاتھا پائی کے واقعات سامنے آئے، جس سے احتجاج شروع ہونے سے پہلے ہی شدید بدنظمی پیدا ہوگئی۔ کارکنان کے آپس میں الجھنے کی اطلاعات نے مارچ کے انتظامات اور تنظیمی نظم و ضبط کے دعووں کو بھی متنازع بنا دیا ہے۔

دوسری جانب لنڈی کوتل میں لانگ مارچ کے لیے بڑے اجتماعات اور عوامی شرکت کے دعوے بھی زمینی صورتحال سے مطابقت نہیں رکھتے۔

یہ بھی پڑھیں : صوبے میں لاشیں اٹھ رہی ہیں، پی ٹی آئی اسلام آباد مارچ پر ڈٹ گئی

مقامی سطح پر کارکنان کی کم تعداد اور انتظامات کی صورتحال نے پی ٹی آئی کی جانب سے پیش کیے جانے والے بڑے عوامی ردعمل کے بیانیے پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

خیبرپختونخوا پہلے ہی دہشتگردی کے سنگین چیلنج سے دوچار ہے، ایسے میں سیاسی احتجاج، باہمی اختلافات اور سیکیورٹی معاملات پر کشیدگی نے صوبے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔

وفاقی حکومت اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان انسدادِ دہشتگردی کے معاملے پر مذاکرات میں بھی اتفاقِ رائے نہ ہوسکا، جس پر سیاسی حلقوں میں تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔

یوں لانگ مارچ کے آغاز سے پہلے ہی کارکنان کی مبینہ باہمی لڑائی، کم عوامی شرکت، انتظامی کمزوریوں اور دہشتگردی کے حساس معاملے پر سیاسی اختلافات نے پی ٹی آئی کی احتجاجی مہم کے دعووں اور زمینی صورتحال کے درمیان واضح فرق نمایاں کردیا ہے۔

Scroll to Top