وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں شریک پاکستان تحریک انصاف کے وفد کے پاس مکمل اختیارات موجود نہیں تھے اور تمام تر اختیارات وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے پاس تھے۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزیراعظم نے تحریک انصاف کو واضح پیغام دیا ہے کہ اگر بات چیت کرنی ہے تو لانگ مارچ ختم کرنا ہو گا کیونکہ لانگ مارچ اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف مذاکراتی عمل جاری تھا تو دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی طرف سے مسلسل دھمکی آمیز بیانات دیے جا رہے تھے۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے مطابق تحریک انصاف کا وفد نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہوا تھا اور حکومت نے اس کے سامنے 7 نکات رکھے تھے تاہم پی ٹی آئی وفد نے کہا کہ 8 نکات پر تعاون کے لیے تیار ہی تاہم جب ان نکات پر عمل درآمد کا مرحلہ آیا تو پی ٹی آئی وفد نے موقف اپنایا کہ انہیں اس کے لیے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے منظوری درکار ہوگی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن نے ایک دن کی مہلت لے کر سہیل آفریدی سے رابطہ کیا جس کے بعد وزیراعلیٰ نے عمل کو سبوتاژ کر دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف نے بغیر سوچ بچار کے لانگ مارچ کا اعلان کیا ہےجبکہ اس مارچ کی تاریخ بانی پی ٹی آئی یا سینئر قیادت نے طے نہیں کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور: ایل آر ایچ سے اغوا ہونے والا نومولود بچہ بازیاب
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ قانون ہاتھ میں لینے والے کسی جتھے کو بھی اسلام آباد میں داخل ہونے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔





