پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی اور وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں صوبے کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، حالیہ لانگ مارچ اور دیگر اہم سیاسی امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے انتشار کی سیاست کو مسترد کردیا ہے۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خیبرپختونخوا کے عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ صوبے کے عوام امن، استحکام اور ترقی چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق عوامی مسائل کے حل اور صوبے میں معمولاتِ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے سیاسی استحکام اور پُرامن ماحول ناگزیر ہے۔
ملاقات میں خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وفاقی حکومت صوبے میں قیامِ امن اور عوامی ترقی کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ اور ترقیاتی عمل کا تسلسل حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی یا گورنر راج؟ اہم تجویز زیرِ غور
گورنر فیصل کریم کنڈی اور وفاقی وزیر امیر مقام نے لانگ مارچ اور اس سے جڑے سیاسی معاملات پر بھی گفتگو کی۔ دونوں رہنماؤں کے مطابق صوبے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ذمہ دارانہ سیاسی طرزِعمل اور عوامی مفادات کو ترجیح دینا ضروری ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں دہشت گردی کے مسئلے اور صوبے میں امن کی ضرورت کو بھی اہمیت دی گئی۔ دونوں رہنماؤں کے مؤقف کے مطابق خیبرپختونخوا کے عوام طویل عرصے سے بدامنی کے اثرات کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام متعلقہ اداروں اور حکومتوں کو مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
اعلامیے میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بہتری، عوامی فلاح اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں وزراء اور ارکان اسمبلی کی گرفتاریوں پر آئی جی پولیس کو مراسلہ ارسال
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ صوبے کے عوام کو سیاسی کشیدگی کے بجائے امن، استحکام اور ترقی کے ثمرات ملنے چاہییں۔
واضح رہے کہ لانگ مارچ اور صوبے کی سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں عوام کی جانب سے انتشار کی سیاست مسترد کیے جانے کا مؤقف دونوں رہنماؤں سے منسوب ہے؛ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق کے لیے عوامی رائے یا دیگر شواہد درکار ہوں گے۔





