پشاور: خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبائی بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں نے سابقہ صوبائی انتظامیہ کے دور میں ہونے والے فیصلوں، سرکاری وسائل کے استعمال اور محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لینے سے متعلق بحث کو تیز کر دیا ہے۔
نئے چیف سیکریٹری کی تعیناتی، متعدد افسران کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایات اور پولیس میں ردوبدل کے بعد یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ سابقہ حکومت کے دور میں سرکاری اختیارات اور وسائل کس انداز میں استعمال کیے جاتے رہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے جاری انتظامی تبدیلیوں کے تحت متعدد افسران کی ذمہ داریاں تبدیل کی گئی ہیں، جبکہ گورنر فیصل کریم کنڈی کی زیرصدارت مشاورتی کونسل کے پہلے اجلاس میں بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس، امن و امان کی بحالی اور سرکاری محکموں کی کارکردگی بہتر بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی، روس سے رسد بڑھنے کی توقعات
ان اقدامات کے بعد سابقہ صوبائی حکومت کے دور میں اہم عہدوں پر تعینات رہنے والے افسران، مختلف محکموں کے انتظامی فیصلوں، ترقیاتی منصوبوں، سرکاری ٹھیکوں اور فنڈز کے استعمال کا ریکارڈ جانچنے کا مطالبہ سامنے آ سکتا ہے۔
اگر حکومت باقاعدہ تحقیقات کا فیصلہ کرتی ہے تو متعلقہ ریکارڈ، آڈٹ رپورٹس، ٹھیکوں کی تفصیلات اور سرکاری ادائیگیوں کا جائزہ لے کر بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔
سیاسی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا سرکاری مشینری کو سیاسی قیادت کے احکامات پر استعمال کیا گیا اور آیا کسی افسر یا اہلکار نے اپنے قانونی فرائض کے بجائے سیاسی وابستگی کی بنیاد پر کام کیا۔
تاہم ان الزامات کی حقیقت کا تعین شواہد، دستاویزی ریکارڈ اور شفاف تحقیقات کے ذریعے ہی ممکن ہوگا۔
قوی امکان ہے منصوبے یا سرکاری ادائیگی میں بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال یا قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے شواہد سامنے آئیں گے جس پر متعلقہ افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی اور ثابت شدہ مالی نقصان کی وصولی کا عمل بھی شروع ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ریاض ایئرپورٹ پر ایک اور حملہ، پاکستانی شہری جاں بحق، 11 افراد زخمی
گورنر راج کے بعد انتظامی تبدیلیوں نے صوبے میں احتساب، شفافیت اور حکومتی کارکردگی سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے اب اہم سوال یہ ہے کہ آیا نئی انتظامیہ صرف افسران کی تبدیلیوں تک محدود رہتی ہے یا سابقہ دور کے فیصلوں اور سرکاری اخراجات کا باقاعدہ جائزہ لینے کے لیے تحقیقاتی اور آڈٹ عمل بھی شروع کیا جاتا ہے۔
تاحال دستیاب رپورٹس میں بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس کے مؤقف اور انتظامی تبدیلیوں کا ذکر ہے تاہم سابقہ صوبائی حکومت کے تمام وزرا، سیاسی قیادت یا ان سے وابستہ اہلکاروں کے خلاف جامع تحقیقات یا قومی خزانے کی رقوم کی وصولی کے کسی عمومی حکم کے جاری ہونے کا امکان ہے





