خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی مدت کتنی ہوسکتی ہے؟ رانا ثنا اللہ نے بتادیا

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی مدت کتنی ہوسکتی ہے؟ رانا ثنا اللہ نے بتادیا

خیبرپختونخوا کی 11 رکنی ایڈوائزری کونسل کے رکن سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ صوبے کے حالات 3 سے 6 ماہ میں اس سطح پر لانا ہوں گے جہاں لوگوں کو امن میسر ہو، وہ آزادانہ زندگی گزار سکیں، کاروبار کرسکیں اور بلاخوف آمدورفت جاری رکھ سکیں۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالات بہتر نہ ہوئے تو 10 بار بھی ایمرجنسی لگانا پڑی تو لگائیں گے، اقتدار میں چاہے پاکستان تحریک انصاف ہو، اسے دہشتگردی کے خلاف قومی بیانیے کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔

 رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ہم پرامید ہیں کہ یہ نظام کام کر لے گا، ایڈوائزری کونسل سیکیورٹی فورسز اور مسلح افواج کو سپورٹ دے گی، جن علاقوں کو فوج دہشت گردی سے پاک کرے گی، وہاں انتظامیہ کو انہیں اپنے کنٹرول میں رکھنا ہوگا۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے دن کو یوم سیاہ یا یوم نجات کے طور پر یاد نہیں رکھا جانا چاہیے، یوم نجات اس دن ہوگا جب دہشت گردی پر قابو پالیں گے اور شہدا کو خراج تحسین پیش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی جن حالات میں نافذ کی گئی، وہاں ہمارے جوان قربانیاں دے رہے تھے، دہشت گردوں کا قلع قمع نہیں ہو رہا تھا اور صوبائی حکومت کا دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کوئی کردار نہیں تھا۔ ہم پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے کردار کو مائنس کرکے آگے بڑھ رہے ہیں تاکہ صوبے سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جا سکے۔

 یہ بھی پڑھیں: پشاور سمیت خیبر پختونخوا بھر میں معمولاتِ زندگی معمول کے مطابق جاری، شہری روزمرہ سرگرمیوں میں مصروف

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت لگایا گیا ہے، ہمارا اندازہ تھا کہ پی ٹی آئی 10 سے 12 ہزار سے زیادہ افراد جمع نہیں کرسکے گی اور ایسا ہی ہوا، لیکن اس بار خدشہ تھا کہ افغانستان سے تربیت حاصل کرکے پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے بعض افراد مارچ میں شامل ہوکر کوئی کارروائی نہ کردیں، جس سے خون خرابہ ہوسکتا تھا۔ اسی وجہ سے ہنگامی اقدامات کیے گئے۔

Scroll to Top