خیبرپختونخوا میں سونے کے اربوں روپے کے ٹھیکے کیسے بانٹے گئے؟ مبینہ بے ضابطگیوں کے ہوش رُبا انکشافات سامنے آگئے

خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے دور میں سونے کی کان کنی کے اربوں روپے مالیت کے ٹھیکوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔

دریائے سندھ اور دریائے کابل کے کنارے پلیسر گولڈ کی نیلامیوں، ٹھیکوں کی الاٹمنٹ، بنیادی قیمتوں کے تعین اور کان کنی کے طریقہ کار پر قومی احتساب بیورو (نیب) کے سنگین اعتراضات سامنے آئے ہیں۔

اکتوبر 2024 کی سرکاری رپورٹ کے مطابق سونے کی تلاش اور کان کنی کے چار معدنی بلاکس کی نیلامی تقریباً 4 ارب 92 کروڑ 71 لاکھ روپے میں کی گئی۔

نیلامی کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں، مخصوص بولی دہندگان کو فائدہ پہنچانے اور متعلقہ قواعد پر عمل درآمد کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق دریائے سندھ کے بلاک اے کا ٹھیکہ ایک ارب 25 کروڑ روپے میں گلوبا کور پرائیویٹ لمیٹڈ، بلاک بی کا ٹھیکہ ایک ارب 26 کروڑ 10 لاکھ روپے میں ماجکو پرائیویٹ لمیٹڈ، بلاک سی کا ٹھیکہ ایک ارب 30 کروڑ 50 لاکھ روپے میں ہمالیہ ارتھ پرائیویٹ لمیٹڈ جبکہ بلاک ڈی کا ٹھیکہ ایک ارب 11 کروڑ 11 لاکھ روپے میں شکردرہ منرلز پرائیویٹ لمیٹڈ کو دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق نیب نے متنازع معدنی ٹھیکوں سے متعلق ریکارڈ محکمہ معدنیات خیبرپختونخوا سے طلب کیا ہے۔

تحقیقات میں معدنی بلاکس کی بنیادی قیمتوں کے تعین، سونے کے ذخائر کا درست تخمینہ لگائے بغیر نیلامی، منرل آکشن رولز 2022 کی مبینہ خلاف ورزیوں اور ٹھیکوں کی الاٹمنٹ کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

بنیادی قیمتیں مقرر کرتے وقت 2015 کی جیولوجیکل اسٹڈی کو نظرانداز کیے جانے اور سونے کے ذخائر کی مقدار کا قابلِ اعتماد تخمینہ لگائے بغیر نیلامی کا عمل مکمل کرنے کے معاملے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

فروری 2022 میں شروع ہونے والی جیولوجیکل میپنگ نومبر 2023 میں روکنے کا معاملہ بھی تحقیقات کا حصہ بتایا جاتا ہے۔

مقررہ 14 روزہ مدت میں معاہدے مکمل نہ ہونے کے باوجود الاٹمنٹ لیٹر جاری کیے جانے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں جس سے متعلقہ حکام کے کردار اور قواعد پر عمل درآمد کے حوالے سے سوالات پیدا ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں نومبر 2024 کے دوران پشاور ہائی کورٹ کے حکمِ امتناع کے باوجود کان کنی کی سرگرمیاں جاری رہنے کے انکشافات بھی سامنے آئے ہیں۔

اس کے علاوہ، ماحولیاتی منظوری اور ضروری مائننگ پلان کے بغیر کان کنی کیے جانے پر بھی اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔

متعلقہ علاقوں میں 1500 سے زائد ایکسکیویٹرز کی مبینہ غیرقانونی سرگرمیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، لیز ہولڈرز کی جانب سے ایکسکیویٹرز کے مالکان سے فی مشین ہفتہ وار 5 سے 7 لاکھ روپے وصول کیے جانے کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سونا سستاہوگیا، خریداروں کیلئے خوشخبری

غیرمجاز سب لیزنگ کے ذریعے ہفتہ وار 75 کروڑ روپے سے ایک ارب روپے سے زائد آمدن کے تخمینے بھی زیرِ بحث ہیں، کان کنی سے حاصل ہونے والے سونے کی پیداوار، فروخت اور آمدن کا مکمل ریکارڈ فراہم نہ کیے جانے پر بھی اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔

سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے معدنی بلاکس کی نیلامیوں کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کے دور میں پہلے سے زیادہ قیمتیں حاصل کی گئیں اور قانونی تقاضے پورے کیے گئے۔

Scroll to Top