جدید دور کی خطرناک ترین عادت اور خاموش قاتل ’اسمارٹ فون‘ بچوں اور نوجوانوں کی نیند اور صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہا ہے۔
عالمی سطح پر معتبر طبی جریدے جاما پیڈیا ٹرکس میں شائع ہونے والی ایک تازہ ترین اور آنکھیں کھول دینے والی طبی تحقیق نے والدین اور ماہرین کے ہوش اڑا دیے ہیں جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ رات دیر تک موبائل فونز کی سکرین سے چپکے رہنے والے نوجوان نہ صرف نیند کی شدید کمی کا شکار ہو رہے ہیں بلکہ ان کا دماغی نظام بھی شدید متاثر ہو رہا ہے۔
اس جامع تحقیق میں 15 سال کی اوسط عمر کے 425 بچوں اور نوجوانوں کو شامل کیا گیا تھا جو کہ دماغی نشوونما سے متعلق ایک طویل مدتی سائنسی تحقیق کا حصہ تھے۔
محققین نے ان بچوں کی مجموعی طور پر 7,600 راتوں کا باریک بینی سے ڈیٹا اکٹھا اور تجزیہ کیا جس کے نتائج انتہائی تشویشناک ثابت ہوئے۔
تحقیق کے سنسنی خیز نتائج سے معلوم ہوا کہ جو نوجوان رات 10 بجے کے بعد اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں انہیں بستر پر لیٹنے کے بعد سونے میں معمول سے پورا ایک گھنٹہ زیادہ لگ جاتا ہے۔ ان کی کل نیند کا دورانیہ 20 منٹ تک گھٹ جاتا ہے اور رات کو سوتے وقت ان کی بار بار آنکھ کھلتی ہے اور وہ گہری اور پورسکون نیند سے محروم رہتے ہیں۔
طبی محققین کا کہنا ہے کہ اسمارٹ فون محض وقت کا ضیاع نہیں بلکہ یہ انسانی دماغ کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اسمارٹ فون پانی میں گر جائے تو گھبرائیں نہیں، فون کو بچانے کا آسان طریقہ جان لیں
سوشل میڈیا، رنگ برنگی ویڈیوز، ٹیکسٹ میسجز، بار بار آنے والے نوٹیفکیشنز اور سکرین کی تیز روشنی دماغ کو مسلسل جاگنے کی حالت میں رکھتی ہیں۔ اس کی وجہ سے نیند لانے والے قدرتی ہارمونز بننا بند ہو جاتے ہیں اور نیند دور بھاگ جاتی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر رات 10 بجے کے بعد سکرین ٹائم پر قابو نہ پایا گیا تو نوجوان نسل شدید جسمانی اور نفسیاتی بیماریوں کی دلدل میں دھنس سکتی ہے۔





