اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین تشویشناک مگر حوصلہ افزا رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی سائنسی بنیادوں پر کی جانے والی انٹیلی جنس بیسڈ اور جارحانہ کارروائیوں کے نتیجے میں دہشت گرد حملوں میں تاریخی اور واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
وفاق اور صوبوں میں سیکورٹی سیٹ اپ کی مضبوطی اور ہائی الرٹ اقدامات کے باعث دشمن کے عزائم خاک میں مل چکے ہیں اور گزشتہ پانچ ہفتوں کے اندر اندر ملک بھر بالخصوص خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گرد حملوں کی شرح میں 66 فیصد تک کی زبردست کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جہاں 18 سے 24 ستمبر کے دوران 61 دہشت گردانہ حملے رپورٹ ہوئے تھے، وہیں سکیورٹی فورسز کے مسلسل دباؤ کے بعد 16 سے 22 اکتوبر کے ہفتے میں یہ تعداد سمٹ کر محض 21 رہ گئی ہے، جو سکیورٹی اداروں کے پیشہ ورانہ عزم اور موثر حکمت عملی کا واضح ثبوت ہے۔
یہ بھی پڑھیں : موسم خشک رہے گا یا بارش ہوگی؟ محکمہ موسمیات کی اہم پیشگوئی
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر ملک بھر میں عسکریت پسندوں کی کارروائیوں میں گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 38 فیصد نمایاں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ سکیورٹی فورسز کے موثر دفاع کے باعث حملوں میں زخمی ہونے والے افراد کی تعداد بھی 20 سے کم ہو کر 11 رہ گئی ہے۔
اس بڑی کامیابی کی اصل وجہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے مسلسل کیے جانے والے ٹارگٹڈ آپریشنز ہیں، جن کے تحت محض ایک ہفتے میں 10 کامیاب سکیورٹی آپریشنز کے دوران فتن الخوارج اور دیگر کالعدم تنظیموں کے 33 سفاک عسکریت پسندوں کو جہنم واصل کیا گیا ہے۔
ان تابڑ توڑ کارروائیوں نے دشمن کے بنیادی نیٹ ورک، پناہ گاہوں اور ان کے سپلائی روٹس کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے جس سے وہ دفاعی پوزیشن پر آنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : خون کے کینسر میں مبتلا بنگلہ دیشی نوجوان کرکٹر انتقال کر گئے، علاج کے لیے ڈھاکا منتقلی کے دوران دم توڑ دیا
پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز نے اپنی جامع رپورٹ میں فتن الہندوستان میں ابھرتے ہوئے قیادت کے شدید تنازع اور فتنہ الخوارج کی بدلتی ہوئی پراپیگنڈہ حکمت عملی کے گہرے اثرات کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مسلسل ناکامیوں اور سینئر کمانڈروں کی ہلاکت کے بعد دہشت گرد گروہوں کے اندرونی ڈھانچے میں شدید توڑ پھوڑ پیدا ہو چکی ہے اور وہ عوامی سطح پر اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے نئی پراپیگنڈہ سازشوں کا سہارا لے رہے ہیں۔
تاھم سکیورٹی فورسز کے غیر متزلزل عزم اور عوامی تعاون نے دشمن کے ہر منصوبے کو خاک میں ملا دیا ہے اور ان تمام ہنگامی و سیکیورٹی اقدامات کا نتیجہ خطے میں امن و امان کی مستقل بحالی اور ریاستی قلمرو کی مضبوطی کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔





