غزہ کی سرزمین پر جاری ظلم و ستم کاایک اور دلخراش واقعہ سامنے آیا ہے جہاں اسرائیلی فوجیوں کی اندھا دھند فائرنگ سے شدید زخمی ہونے والی معصوم بچی فاطمہ البیوک بالآخر زندگی کی جنگ ہار گئی اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق 8 سالہ فاطمہ البیوک چند روز قبل وسطی غزہ کی پٹی میں واقع دیر البلاح شہر میں اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ کی زد میں آ کر شدید زخمی ہوئی تھی جس کے بعد سے وہ ہسپتال میں زیرِ علاج تھی۔
بالآخر وہ اپنے رب کے حضور پیش ہو گئی، اور قریبی رشتہ داروں نے انتہائی غم و غصے کی فضا میں اس معصوم کو سپردِ خاک کر دیا۔
فاطمہ البیوک کی زندگی کا المیہ صرف یہی نہیں تھا بلکہ اس معصوم بچی نے اکتوبر 2023 میں غزہ پر ہونے والے وحشیانہ اسرائیلی حملے میں اپنے پورے خاندان کو کھو دیا تھا۔
اس ہولناک حملے کے دو دن بعد معجزاتی طور پر اسے ملبے سے زندہ نکال کر اس کی دادی کے حوالے کیا گیا تھامگر تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا اور آج وہ خود بھی اس ظلم کا نشانہ بن گئی۔
فاطمہ البیوک کی شہادت اس نہ ختم ہونے والے انسانی بحران کا منہ بولتا ثبوت ہے جو اکتوبر 2023 سے غزہ کے باسیوں پر مسلط ہے۔ اس نسل کشی کی جنگ کے دوران اب تک کے دل دہلا دینے والے اعداد و شمار یہ ہیں کہ اب تک 74 ہزار سے زائد فلسطینی شہید جبکہ 1 لاکھ 75 ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
غزہ کا تقریباً 90 فیصد شہری انفراسٹرکچر ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے، جس سے زندگی کی بنیادی سہولیات ناپید ہو چکی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، مزید 7 فلسطینی شہید، متعدد زخمی
گزشتہ سال کی نام نہاد جنگ بندی کے بعد سے اب تک 1500 سے زائد افراد کو مختلف حملوں میں شہید کیا جا چکا ہے۔
> معصوم فاطمہ کی شہادت دنیا کے ضمیر اور انسانی حقوق کے دعویداروں کے منہ پر ایک اور زور دار طمانچہ ہے جو اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ غزہ میں بچوں اور شہریوں کے لیے زندگی کا ہر لمحہ موت کے سائے میں گزر رہا ہے۔





