خیبر پختونخوا کے ضلع کرک کی اہم تحصیل تخت نصرتی میں طویل عرصے سے زبوں حالی کا شکار مرکزی بازار کی سڑک پر بالاخر باقاعدہ تعمیراتی و مرمتی کام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی دور حکومت میں طویل عرصے سے غیر فعال انتظامی صورتحال اور سڑک کی ناہمواری کے باعث جہاں ایک طرف مقامی تاجر اور عام شہری شدید مشکلات کا شکار تھے، وہیں دوسری طرف تجارتی سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہو رہی تھیں۔
تحت نصرتی کا مرکزی بازار نہ صرف مقامی آبادی کے لیے خرید و فروخت کا سب سے بڑا مرکز ہے، بلکہ یہ آس پاس کی آبادیوں کو ضلع کے دیگر حصوں سے بھی جوڑتا ہے ، پی ٹی آئی کے دورِ حکومت کے دوران اور بعد ازاں صوبے میں انتظامی تبدیلیوں کے باعث ترقیاتی کاموں کی رفتار سست روی کا شکار رہی۔
بارشوں کے پانی کی نکاسی کا مناسب نظام نہ ہونے اور وزنی گاڑیوں کی آمدورفت کے باعث سڑک کھنڈر کا منظر پیش کر رہی تھی ، جہاں جگہ جگہ پڑے گہرے کھڈوں کی وجہ سے روزمرہ کا ٹریفک جام ہونا معمول بن چکا تھا ، سڑک سے اڑنے والی گرد و غبار نے مقامی دوکانداروں اور رہائشیوں کا جینا مشکل کردیا تھا جبکہ معمولی بارش کے بعد بازار میں نالیوں کا پانی جمع ہو جاتا تھا، جس سے پیدل چلنا بھی دشوار ہو جاتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : گورنر انتظامیہ کی شاندار حکمت عملی نے صوابی کے پٹرول پمپس پر ہلچل مچا دی
گورنر راج اور انتظامیہ متحرک
خیبر پختونخوا میں حالیہ سیاسی و انتظامی پیش رفت اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد انتظامیہ نے ہنگامی بنیادوں پر ترقی و تعمیر زیر التواء بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے۔
مقامی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کو سخت ہدایات جاری کی گئیں کہ عوامی اہمیت کے حامل تجارتی مراکز کی سڑکوں کی بحالی میں بلاجواز تاخیر نہ کی جائے، اسی تسلسل میں تخت نصرتی بازار کی سڑک کی پختگی، ڈرینج سسٹم کی بہتری اور تعمیری کام کے لیے مشینری اور عملہ موقع پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
عوامی ردِعمل
تعمیراتی کام شروع ہونے پر تخت نصرتی کے تاجروں اور عام شہریوں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے ، بازار کی سڑک کی بہتر حالت سے نہ صرف کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا بلکہ خریداروں کی آمدورفت بھی آسان ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں : فتنہ الہندوستان کا پروپیگنڈا بے نقاب، گوادر میں معمولاتِ زندگی رواں دواں
تخت نصرتی بازار کی سڑک کا آغاز خطے میں انفراسٹرکچر کی بحالی کی طرف ایک مثبت قدم ہے، جس سے علاقے کے عوام کی سالہا سال سے جاری تکلیف کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔
برسوں تک تبدیلی اور ترقی کے بلند و بانگ دعوے کرنے والی پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے ضلع کرک اور بالخصوص تخت نصرتی کے عوام کو سوائے تسلیوں، کھوکھلے نعروں اور زبانی جمع خرچ کے کچھ نہ دیا۔
تخت نصرتی کا مرکزی بازار پی ٹی آئی کے طویل ادوارِ حکومت میں مسلسل انتظامی بے حسی اور غفلت کا شکار رہا ، مقامی نمائندوں اور حکمرانوں نے عوامی ووٹ تو حاصل کیے لیکن الیکشن کے بعد اس تباہ حال سڑک کی طرف مڑ کر دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔
عوامی فلاح پر مبنی منصوبوں کو پسِ پشت ڈال کر صرف سیاسی چپقلشوں اور بیانیے کی سیاست پر توجہ مرکوز رکھی گئی، نئے سیٹ اپ کے بعد ہونے والا یہ فوری ایکشن اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اگر نیت اور انتظامی ارادہ موجود ہو تو کام دنوں میں ہو سکتا ہے، لیکن پی ٹی آئی کے دور میں صرف ترجیحات کی غلط سمتی اور سیاسی بے حسی ہی حائل رہی۔





