پاکستان کی جانب سے بھارتی پروازوں کیلئے فضائی حدود کی مزید بندش سے متعلق فیصلہ کل متوقع ہے، جس کے باعث بھارت کی ایوی ایشن انڈسٹری میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل ’’سماء‘‘ کے مطابق، پاکستان کی فضائی حدود مستقبل میں بھارتی ایئرلائنز کے لیے کھلی رہے گی یا نہیں، اس پر کل فیصلہ ہوگا۔ اس پابندی کے باعث بھارتی ایئرلائنز کو اب تک آٹھ ارب بھارتی روپے کا بھاری مالی نقصان ہو چکا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی فضائی حدود کی بندش کے سبب بھارتی طیاروں کو یومیہ دو سے چار گھنٹے اضافی پرواز کرنا پڑ رہا ہے، جس سے نہ صرف ایندھن کی مد میں پانچ ارب روپے کا اضافی خرچ آیا ہے بلکہ طویل پروازوں کے لیے اسٹاپ اوور کی صورت میں مزید تین ارب روپے کا بوجھ بھارتی ایئرلائنز پر پڑ چکا ہے۔
بھارتی فضائی بیڑے میں شامل بوئنگ 777 اور ایئربس طیاروں کی 150 سے زائد پروازیں روزانہ طویل راستے اختیار کرنے پر مجبور ہیں، جس سے آپریشنل لاگت میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق، اس بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کے باعث ایئر انڈیا نے بھارتی حکومت سے ریلیف اور مالی امداد کی درخواست بھی کر دی ہے۔ ایئر انڈیا کا مؤقف ہے کہ فضائی پابندیوں کے باعث درپیش اضافی اخراجات کمپنی کے مالی استحکام کو متاثر کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان فضائی حدود بند رکھنے کا فیصلہ برقرار رکھتا ہے تو یہ بھارتی ایئرلائنز کے لیے ایک طویل المدتی چیلنج بن سکتا ہے۔
پاکستان کی جانب سے حتمی فیصلے کا اعلان کل متوقع ہے، جس کے بعد خطے کی فضائی پالیسی اور پروازوں کے شیڈول پر واضح اثرات مرتب ہوں گے۔





