سیاسی ڈرامے نہیں، سنجیدہ پیشکش پر ہی بات ہو گی، شبلی فراز کا دوٹوک مؤقف

سیاسی ڈرامے نہیں، سنجیدہ پیشکش پر ہی بات ہو گی، شبلی فراز کا دوٹوک مؤقف

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما شبلی فراز نے واضح کیا ہے کہ تحریک انصاف سیاسی ڈراموں کا حصہ نہیں بنے گی، اگر کوئی سنجیدہ اور بامقصد مذاکرات کی پیشکش ہوئی تو اس پر غور ضرور کیا جائے گا۔

نجی ٹی وی چینل (جیو نیوز) سے گفتگو کرتے ہوئے شبلی فراز نے خفیہ مذاکرات سے متعلق خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم بھی ایسی باتیں سن رہے ہیں، لیکن بانی پی ٹی آئی نے واضح کہا ہے کہ کسی سے مذاکرات نہیں ہو رہے۔‘‘

شبلی فراز نے کہا کہ ہم محض احتجاج برائے احتجاج نہیں کر رہے، بلکہ یہ احتجاج عوامی حقوق کی بحالی کے لیے ہے۔ ان کے بقول، ’’ملک کا سب سے مقبول لیڈر اگر جیل میں ہے تو سیاسی جدوجہد کرنا ہمارا فرض ہے، ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھ سکتے۔‘‘

انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ہونے والے مذاکرات سنجیدگی سے نہیں کیے گئے۔ ’’نہ ہمیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دی گئی، نہ ہی حکومت نے صورت حال کو سنبھالنے میں سنجیدگی دکھائی۔ دوسری جماعتوں کے قائدین سے ان کے رہنما ملاقات کر سکتے تھے، ہمیں یہ سہولت نہیں دی گئی۔‘‘

شبلی فراز کا کہنا تھا کہ حکومت سے مذاکرات تب ہی بامقصد ہو سکتے ہیں جب دونوں جانب کچھ دینے اور لینے کی گنجائش ہو۔ ’’ہم نے دیکھا کہ ماضی میں یہ صرف وقت کا ضیاع ثابت ہوئے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’’لوگ ہماری نہیں بلکہ بانی پی ٹی آئی کی بات سنتے ہیں، وہی اس تحریک کے اصل محور ہیں۔‘‘

پاک بھارت کشیدگی کے دوران پارٹی کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے شبلی فراز نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کے ورکرز نے ہر موقع پر ملکی مفاد کو ترجیح دی اور بھارت کو مؤثر جواب دیا، مگر اندرونی مسائل بدستور موجود ہیں، جنہیں حل کرنا ناگزیر ہے۔

Scroll to Top