مون سون کا دوسرا طاقتور اسپیل، خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر اور پنجاب میں تباہی، متعدد افراد جاں بحق و زخمی

اسلام آباد: مون سون بارشوں کے دوسرے طاقتور اسپیل نے خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں شدید تباہی مچا دی۔

طوفانی بارشوں، سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے مختلف واقعات میں کم از کم 12 افراد جاں بحق جبکہ 15 افراد زخمی ہوگئے، جبکہ کئی علاقوں میں سڑکیں، پل، مکانات اور بنیادی ڈھانچہ بھی متاثر ہوا۔

خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر میں شدید بارش کے بعد آنے والے سیلابی ریلے نے متعدد گاڑیوں کو بہا دیا، جبکہ پاک افغان شاہراہ بھی زیر آب آگئی، جس سے ٹریفک کی آمدورفت بری طرح متاثر ہوئی۔

وادی کاغان میں سہوچ کے مقام پر بھاری لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ناران۔جلکھڈ روڈ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی، جس کے باعث بڑی تعداد میں سیاح مختلف مقامات پر پھنس گئے۔ مسلسل بارشوں سے تین رابطہ پل بھی بہہ گئے جبکہ متعدد گھروں اور ہوٹلوں کو نقصان پہنچا۔ دریائے کنہار میں پانی کی سطح بلند ہونے سے نشیبی علاقوں میں خطرات بڑھ گئے ہیں۔

مردان میں بارش کے دوران ایک مکان کی چھت گرنے سے دو بچے جاں بحق جبکہ ایک خاتون اور ایک بچی زخمی ہوگئیں۔ ریسکیو ٹیموں نے زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا۔

آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں کٹھاپیراں نالہ شدید طغیانی کا شکار ہوگیا، جہاں تیز رفتار پانی بڑے بڑے پتھروں کو بھی اپنے ساتھ بہا لے گیا، جس سے قریبی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

یہ بھی پڑھیں : مردان میں بارش کے دوران چھت گرنے کا واقعہ، بچے سمیت 3 افراد زخمی

پنجاب میں بھی مون سون بارشوں کے باعث دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ وزیرآباد کے مقام پر دریائے چناب میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے قریبی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے گھروں کو فوری خالی کرنے کی اپیل کی ہے، جبکہ چنیوٹ میں بھی نچلے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد اور پنجاب کے دیگر شہروں میں بارش کے باعث موسم خوشگوار ہوگیا، تاہم متعلقہ اداروں نے نشیبی علاقوں کے مکینوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ 24 جولائی تک خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر، پنجاب اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں مزید موسلا دھار بارشیں، مقامی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ برقرار ہے۔ ادارے نے متعلقہ حکام اور شہریوں کو الرٹ رہنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

Scroll to Top