’’ہم تیل نہیں بیچیں گے تو کوئی اور بھی نہیں بیچ سکے گا‘‘ باقر قالیباف نے واضح اعلان کر دیا

’’ہم تیل نہیں بیچیں گے تو کوئی اور بھی نہیں بیچ سکے گا‘‘ باقر قالیباف نے واضح اعلان کر دیا

ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے تیل کی تجارت اور آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے عالمی برادری کو خبردار کر دیا ہے کہ موجودہ تنازع اب ’’سب یا کوئی نہیں‘‘ کی صورتحال اختیار کر چکا ہے۔

ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے عالمی برادری کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران تیل فروخت نہیں کر سکے گا تو کوئی اور بھی تیل فروخت نہیں کر سکے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ خطے کی موجودہ صورتحال اب جنگ سے پہلے والی حالت میں واپس نہیں آئے گی۔

باقر قالیباف، جو ایران کے چیف مذاکرات کار بھی ہیں، نے اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ تنازع کا اصول واضح ہے کہ ’’یا سب یا کوئی نہیں‘‘۔ ان کے مطابق جہاں ایران کو تیل کی فروخت سے روکا جائے گا، وہاں کسی دوسرے ملک کے لیے بھی تیل کی تجارت آسان نہیں رہے گی۔

انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم آبی گزرگاہ کے حالات میں بڑی تبدیلی آ چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی سلامتی کو یقینی بنائے بغیر خطے میں کسی بھی ملک کی سلامتی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

ایرانی اسپیکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں مزید کہا کہ موجودہ تنازع اب ’’سب یا کوئی بھی نہیں‘‘ کی صورتحال اختیار کر چکا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کی سلامتی کو یقینی نہ بنایا گیا تو کسی بھی انفراسٹرکچر کو محفوظ نہیں سمجھا جا سکتا۔

باقر قالیباف نے آبنائے ہرمز کے تحفظ کو امریکی افواج کی موجودگی سے بھی جوڑتے ہوئے کہا کہ خطے کے مستقبل کا انحصار سلامتی کی صورتحال پر ہے۔

ان بیانات کے بعد عالمی سطح پر تیل کی سپلائی، آبنائے ہرمز کی اہمیت اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر ایک بار پھر تشویش بڑھ گئی ہے، کیونکہ یہ راستہ دنیا کی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

Scroll to Top