کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نثار کھوڑو نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے نئے صوبوں سے متعلق بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ نئے صوبوں کی بات آئینی طریقہ کار کے بغیر کرنا غیر آئینی ہے، اس لیے ایسے بیانات دینے والوں کو وفاقی وزارت داخلہ جیسے اہم منصب پر نہیں رہنا چاہیے۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نثار کھوڑو نے کہا کہ آئین میں نئے صوبوں کے قیام کا واضح طریقہ کار موجود ہے اور متعلقہ صوبائی اسمبلی کی منظوری کے بغیر کوئی نیا صوبہ نہیں بنایا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی جنوبی پنجاب سمیت نئے صوبے کے قیام کی قرارداد منظور کر چکی ہے، تاہم سندھ میں کسی نئے صوبے کی ضرورت نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئین منتخب سیاسی قیادت نے تشکیل دیا، لیکن بعد ازاں اسی قیادت کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔ ان کے بقول ماضی میں کسی بھی وزیراعظم کو اپنی آئینی مدت مکمل کرنے کا موقع نہیں ملا، جس سے جمہوری نظام کو نقصان پہنچا۔
یہ بھی پڑھیں : افغانستان میں پھنسے پاکستانی طلبہ کی واپسی جاری، 592 کارگو گاڑیاں بھی پاکستان پہنچ گئیں
نثار کھوڑو نے کہا کہ ملک کے موجودہ مسائل کا حل آئین کی بالادستی، جمہوریت کے تسلسل اور آئینی اداروں کے استحکام میں مضمر ہے۔
انہوں نے جلال پور کینال منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں زیر التوا ہے، اور جیسے ہی کونسل کا اجلاس ہوگا، سندھ حکومت اس معاملے پر اپنا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کرے گی۔
واضح رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ موجودہ طرز حکمرانی بڑھتی ہوئی آبادی، پیچیدہ انتظامی معاملات اور عوامی مسائل کے مؤثر حل کے لیے ناکافی ثابت ہو رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بہتر حکمرانی کے لیے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام سمیت اہم اصلاحات پر تمام سیاسی جماعتوں کو مشترکہ اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا تاکہ اختیارات عوام کے مزید قریب منتقل کیے جا سکیں۔





