خیبرپختونخوا میں صحت نظام ڈیجیٹل بنانے کا فیصلہ، AI اور جدید ٹیکنالوجی متعارف

پشاور: خیبرپختونخوا محکمہ صحت نے صوبے میں صحت کی سہولیات اور ہسپتالوں کے انتظامی امور کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کے لیے ڈیجیٹل اصلاحات کے اہم فیصلوں کی منظوری دے دی ہے۔

محکمہ صحت کے مطابق ان اصلاحات کے تحت صوبے کے دور دراز اضلاع کے بنیادی اور دیہی مراکز صحت میں الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈ (EMR)، مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی کلینیکل ڈسیژن سپورٹ سسٹم اور ای ریفرل سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے۔

اس حوالے سے اجلاس میں مختلف تکنیکی، مالیاتی اور ڈپلیکیشن سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا، جس کے بعد متعدد اہم فیصلے اور تجاویز منظور کی گئیں۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈ اور متعلقہ سافٹ ویئر کا یکساں نفاذ یقینی بنایا جائے گا۔ اس نظام کو خیبرپختونخوا کے 20 اضلاع کے 160 بنیادی مراکز صحت اور 40 دیہی مراکز صحت میں نافذ کیا جا رہا ہے۔

محکمہ صحت کے مطابق اس وقت مختلف پروگرامز کے تحت الگ الگ سافٹ ویئر استعمال کیے جا رہے تھے، جس کے باعث مریضوں کے ریکارڈ میں عدم تسلسل کا خدشہ موجود تھا۔

یہ بھی پڑھیں : پشاور بورڈ نے میٹرک سالانہ امتحانات 2026 کے نتائج کا اعلان کر دیا

کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ تمام اداروں اور پارٹنر آرگنائزیشنز کی جانب سے تیار کردہ سافٹ ویئرز کا تکنیکی جائزہ لیا جائے اور ایک محفوظ، متفقہ اور واحد سافٹ ویئر کا انتخاب کیا جائے۔

اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ یکساں ڈیجیٹل نظام کے نفاذ سے مریضوں کے ڈیٹا کی سیکیورٹی بہتر ہوگی اور صحت کے شعبے میں ریکارڈ مینجمنٹ کا نظام مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔

محکمہ صحت کے مطابق جرمن بینک کے تعاون سے صوبے کے 4 اضلاع میں مریضوں کی رجسٹریشن، ای ریفرل، الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈ اور مصنوعی ذہانت پر مبنی تشخیصی فیصلوں کا جدید ڈیجیٹل نظام بھی قائم کیا جا رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے نہ صرف مریضوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے میں مدد ملے گی بلکہ ہسپتالوں کے انتظامی معاملات کو بھی زیادہ مؤثر اور شفاف بنایا جا سکے گا۔

Scroll to Top