پشاور: محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخوا نے سرکاری اسکولوں کے ترقیاتی منصوبوں اور فنڈز کے استعمال میں غیر مجاز افراد، ٹھیکیداروں اور نجی فرموں کی مداخلت روکنے کے لیے تمام متعلقہ حکام کو سخت ہدایات جاری کر دی ہیں۔
محکمہ تعلیم کے مطابق ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ بعض افراد اور ٹھیکیدار خود کو یونیسیف کے وینڈر ظاہر کرکے سرکاری اسکولوں کی پیرنٹ ٹیچر کونسلز (PTCs) سے رابطے کر رہے ہیں اور اسکول ترقیاتی منصوبوں اور فنڈز تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ یونیسیف نے اسکول ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے کسی بھی ٹھیکیدار، فرد یا فرم کو نہ تو مقرر کیا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی خدمات حاصل کی ہیں۔
مراسلے میں تمام متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی غیر مجاز فرد، کمپنی، فرم یا وینڈر کو اسکول ڈویلپمنٹ پلان (SDP) کی سرگرمیوں میں مداخلت یا پیرنٹ ٹیچر کونسلز سے رابطے کی اجازت نہ دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور میں بڑھتی لاقانونیت، قتل کے واقعات میں اضافہ، پولیس کارکردگی پر سوالات
محکمہ تعلیم نے مزید کہا ہے کہ پی ٹی سی فنڈز صرف منظور شدہ قواعد و ضوابط اور مالیاتی طریقہ کار کے مطابق خرچ کیے جائیں۔ فنڈز کے غلط استعمال، خورد برد یا کسی بھی قسم کی مالی بے ضابطگی کی روک تھام کے لیے مؤثر نگرانی کا نظام برقرار رکھا جائے۔
حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر کسی غیر مجاز مداخلت، فراڈ یا مالی بے ضابطگی کی کوشش سامنے آئے تو فوری طور پر محکمہ تعلیم کو رپورٹ کیا جائے تاکہ ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی اور انتظامی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
محکمہ تعلیم کے مطابق اسکول ترقیاتی فنڈز کے شفاف استعمال کو یقینی بنانا متعلقہ افسران کی ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔





