سپارکو کا گلگت بلتستان میں ’’اسپیس 4 کلائمیٹ‘‘ سمپوزیم، فضائی ٹیکنالوجی کے ذریعے ماحولیاتی خطرات کے سدباب پر زور

پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) نے اپنے اسپیس ایپلی کیشنز سینٹر فار کلائمیٹ سائنسز (SACCS) کے تحت گلگت کے مقامی ہوٹل میں ’’سپیس 4 کلائمیٹ‘‘ برف کےعلاقوں کی تشخیس، گلیشیئرز کی صورتحال، گلوف (GLOF) مانیٹرنگ، جنگلات، ہوا کی کوالٹی/ماحولیات اور آبی گزرگاہوں کی صورتحال کے موضوع پر دوسرے علاقائی سمپوزیم کا کامياب انعقاد کیا۔

یہ تقریب سپارکو کے سات شہروں (اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، گلگت اور مظفرآباد) میں قومی و صوبائی سطح پر منعقد کیے جانے والے ’’اسپیس 4 کلائمیٹ‘‘ اقدام اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے متعلق آگاہی سلسلے کا دوسرا سمپوزیم تھا جس کا آغاز 23 جولائی 2026 کو پشاور سے ہوا تھا۔

سمپوزیم میں سینئر سرکاری حکام، پالیسی سازوں، سائنسدانوں، محققین، ترقیاتی شراکت داروں، ماہرین تعلیم اور ماحولیاتی ماہرین نے شرکت کی تاکہ ماحولیاتی لچک اور پائیدار ترقی کے لیے خلائی ٹیکنالوجی کے استعمال اور باہمی تعاون کو مضبوط بنایا جا سکے۔

 

یہ سمپوزیم ماحولیاتی نگرانی کے لیے پاکستان کی باہم ملکی خلائی صلاحیتوں کو پیش کرنے اور سیٹلائٹ پر مبنی کلائمیٹ ڈیٹا کی مدد سے شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو فروغ دینے کا ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوا۔ شرکاء نے گلگت بلتستان اور ملک کو درپیش ابھرتے ہوئے ماحولیاتی خطرات—جن میں گلیشیئرز کا پگھلنا اور سرجنگ، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب (GLOFs)، قدرتی آفات، ہوا کی بگڑتی صورتحال اور پانی کے وسائل کی تبدیلی شامل ہیں—پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور ان چیلنجز سے نمٹنے میں زمین کی نگرانی کرنے والی (Earth observation) ٹیکنالوجیز کے کردار کو اجاگر کیا۔

افتتاحی سیشن میں ڈائریکٹر جنرل اسپیس ایپلی کیشنز اینڈ ریسرچ سینٹر سپارکو ڈاکٹر امجد علی نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی گلگت بلتستان کے وزیر برائے جنگلات، جنگلی حیات، پارکس و ماحولیات راجہ ناصر علی خان تھے، جنہوں نے کلائمیٹ گورننس اور قدرتی آفات کے خطرات میں کمی کے لیے جدید جیو اسپیشل (Geospatial) ٹیکنالوجیز کو مدنظر رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔

راجہ ناصر علی خان نے اپنے اہم خطاب میں سپارکو کو ’’اسپیس 4 کلائمیٹ‘‘ اقدام شروع کرنے پر سراہا اور ماحولیاتی لچک و پائیدار ترقی کی حمایت کے لیے مقامی خلائی ٹیکنالوجیز کے استعمال کی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے ’’اسپیس 4 کلائمیٹ جیو اسپیشل پورٹلز‘‘ میں خاصی دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ یہ پورٹل شواہد پر مبنی فیصلے کرنے اور ماحولیاتی نظام کی بہتری کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

وزیر ماحولیات نے بتایا کہ حکومت گلگت بلتستان نے خطے کے نازک کریوسفیئر (Cryosphere) کی حفاظت کے لیے ایک اہم ادارہ جاتی قدم کے طور پر حال ہی میں گلیشیئر پروٹیکشن اتھارٹی قائم کی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت گلیشیئرز کی نگرانی، سائنسی تحقیق، جدت، صلاحیتوں میں اضافے اور ماحولیاتی موافقت کے لیے مشترکہ حل تلاش کرنے کی غرض سے سینٹر آف ایکسی لینس آن گلیشیئرزکے قیام پر بھی غور کر رہی ہے اور انہوں نے دونوں اقدامات پر سپارکو اور جی بی حکومت کے باہمی تعاون کی خواہش کا اظہار کیا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سیاحت اور ماحولیاتی تبدیلی اس خطے کی دو اہم ترین ترجیحات ہیں، لہٰذا پائیدار سیاحت اور پہاڑی ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے صرف باتوں کی نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے، اور انہوں نے وفاقی و صوبائی اداروں، سائنسی تنظیموں، تعلیمی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان مضبوط شراکت داری کی اپیل کی۔ انہوں نے خطے میں قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری، ماحولیاتی تحفظ اور طویل مدتی کلائمیٹ لچک کو بڑھانے کے لیے جی بی حکومت کے مکمل تعاون کا اعادہ کیا۔

گلگت بلتستان کے سیکرٹری جنگلات، جنگلی حیات و ماحولیات جناب سبطین احمد نے بھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ماحولیاتی موافقت، تحفظ اور قومی لچک کے لیے سائنسی ڈیٹا کے استعمال اور مضبوط ادارہ جاتی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

جناب سبطین احمد نے خطے کے ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنے پیشہ ورانہ تجربات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کو درپیش پیچیدہ مسائل، جیسے گلیشیئرز میں تبدیلی، آبی وسائل کا انتظام، ایکو سسٹم کا تحفظ اور آفات کے خطرات کو خلائی ٹیکنالوجی اور جیو اسپیشل انٹیلی جنس کے ذریعے زیادہ مؤثر طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے سپارکو کے اس علاقائی اقدام کو سراہتے ہوئے سرکاری شعبوں، سائنسی اداروں اور تعلیمی ماہرین کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے کی مکمل حمایت کی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کا محکمہ گلگت بلتستان میں سیٹلائٹ پر مبنی معلومات کے عملی استعمال کے لیے سپارکو اور اس کے ریجنل سینٹر کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

سمپوزیم کی ایک بڑی پیش رفت سپارکو کے “Space4Climate” اقدام کی پیشکش اور “Space4Climate Geospatial Portals” کا لائیو مظاہرہ تھا، جس میں دکھایا گیا کہ سیٹلائٹ پر مبنی ڈیٹا کس طرح قومی و صوبائی اداروں کو باخبر فیصلے کرنے میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔ یہ پورٹل پاکستان کے سیٹلائٹ اثاثوں بشمول PRSS-1، SAR-1، EO سیریز اور ہائپر سپیکٹرل صلاحیتوں کے ڈیٹا کو یکجا کرتا ہے تاکہ گرین ہاؤس گیسوں، ہوا کی کوالٹی، گلیشیئرز، برف کے احاطے، آبی گزرگاہوں، زمین کے احاطے اور ساحلی ماحولیاتی نظام پر بروقت معلومات فراہم کی جا سکیں۔

تکنیکی سیشن کے دوران ماہرین نے گلگت بلتستان کے لیے ماحولیاتی خطرات کے تخمینے، آپٹیکل اور synthetic aperture radar (SAR) سیٹلائٹ ڈیٹا کے ذریعے گلیشیئرز کی مانیٹرنگ اور میپنگ، جنگلات کے رقبے میں تبدیلی کی نشان دہی، GLOF مانیٹرنگ اور ہوا کی معیار کے جائزے پر پریزنٹیشنز دیں۔ ان پیشکشوں نے ثابت کیا کہ مقامی خلائی ٹیکنالوجی قدرتی آفات میں کمی اور وسائل کے پائیدار استعمال کے لیے کارآمد حل فراہم کر رہی ہے۔

اس موقع پر “کلائمیٹ گورننس کے لیے اسپیس بیسڈ کلائمیٹ سروسز کو ادارہ جاتی شکل دینا”کے عنوان پر ایک تعاملی (Interactive) پینل ڈسکشن بھی منعقد ہوا، جس میں بین الادارتی ہم آہنگی، جیو اسپیشل معلومات تک رسائی میں توسیع، اور منصبہ بندی و قدرتی آفات کی تیاری میں سیٹلائٹ سروسز کے مرکزی استعمال کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

سمپوزیم کا اختتام ان سفارشات کے ساتھ ہوا کہ سرکاری محکموں میں Space4Climate سروسز کو ادارہ جاتی سطح پر اپنایا جائے، سائنسی و سرکاری تنظیموں کے درمیان تعاون بڑھایا جائے، جیو اسپیشل ٹیکنالوجیز کی تربیت فراہم کی جائے اور پالیسی سازی کی حمایت کے لیے عملی کلائمیٹ سروسز کو مزید بہتر بنایا جائے۔

یہ علاقائی سمپوزیم امن اور قومی ترقی کے لیے خلائی سائنس و ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے، ماحولیاتی تحفظ فراہم کرنے اور پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs)، پیرس معاہدے اور سینڈائی فریم ورک کے تحت پاکستان کے عالمی عزم کی پاسداری میں سپارکو کی مسلسل کوششوں کا عکاس ہے۔

Scroll to Top