خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی طویل حکمرانی، امن و امان کی بگڑتی صورتحال، کرپشن اور انتظامی بحران نے صوبے کو گھیر لیا

خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی طویل صوبائی حکمرانی کے دوران حکومتی کارکردگی پر عوامی سطح پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ صوبے کو اس وقت بدامنی، تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور انتظامی مسائل سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، جبکہ حکومتی ترجیحات عوامی مسائل کے بجائے سیاسی سرگرمیوں تک محدود دکھائی دیتی ہیں۔

عوامی حلقوں کے مطابق پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی سیاسی سرگرمیاں جلسوں اور احتجاجی پروگراموں کے گرد گھومتی نظر آتی ہیں، تاہم عملی سطح پر عام شہریوں کو نمایاں بہتری دکھائی نہیں دے رہی۔

یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی کے لوگ عمران خان کے نام پر اربوں کما رہے ہیں، جلسے عوام کو دھوکا دینے کے سوا کچھ نہیں، ارباب عثمان خان

شہریوں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی رہائی کے حوالے سے مختلف اوقات میں مختلف تاریخیں دی جاتی ہیں، جبکہ صوبے کے عوام کو درپیش مسائل پر توجہ کم دکھائی دیتی ہے۔ ان کے مطابق بعض ارکان اسمبلی بھی عوامی مسائل، امن و امان اور ترقیاتی امور پر بات کرنے کے بجائے سیاسی احتجاج اور آئندہ کے پروگراموں کا اعلان کرتے نظر آتے ہیں۔

عوامی حلقوں نے صوبے کو ملنے والے مالی وسائل کے استعمال پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبر پختونخوا کو 3,114 ارب روپے جبکہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کی مد میں 3,774 ارب روپے فراہم کیے گئے، تاہم اس کے باوجود صوبے میں بدامنی پر قابو پانے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔

شہریوں نے پولیس کی استعداد کار اور وسائل کی کمی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق پولیس کو مطلوبہ اسلحہ فراہم نہیں کیا گیا اور نہ ہی ضرورت کے مطابق نئے تھانے قائم کیے گئے، جس سے امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے میں مشکلات برقرار ہیں۔

قبائلی اضلاع کے حوالے سے بھی عوامی حلقوں نے شکایات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں قبائلی علاقوں کے لیے مختص حصہ بھی ان علاقوں کی ترقی پر مؤثر انداز میں خرچ نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب صوبائی انتظامیہ میں مبینہ سیاسی مداخلت اور تبادلوں کے معاملے پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بعض شہریوں نے الزام عائد کیا کہ سرکاری افسران کے تبادلے مبینہ طور پر مالی معاملات سے جوڑے جاتے ہیں اور جو افراد مطلوبہ رقم ادا نہیں کرتے، ان کے تبادلے نہیں کیے جاتے۔

یہ بھی پڑھیں : بند کالج اور 2 کروڑ ماہانہ تنخواہوں کی ادائیگیاں: تیمرگرہ میڈیکل کالج کی غیر فعالیت پر پی ٹی آئی ایم پی اے اپنی ہی حکومت کے خلاف پھٹ پڑے

عوامی حلقوں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ بعض حکومتی ارکان اسمبلی کی جانب سے بھی صوبائی حکومت کے اندر مبینہ کرپشن کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

صوبے میں غیر قانونی مائننگ کا معاملہ بھی عوامی تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی کان کنی میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے اور قدرتی وسائل کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

عوام کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں موجودہ صورتحال کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے صوبہ مؤثر حکومتی نگرانی کے بغیر چل رہا ہو۔ شہریوں کے مطابق انہیں تعلیم، صحت، سڑکوں اور دیگر بنیادی انفراسٹرکچر سمیت متعدد مسائل کا سامنا ہے، جبکہ ان مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

شہریوں کے مطابق صوبے کا سب سے سنگین مسئلہ بدامنی ہے، جس نے عام زندگی، کاروبار اور ترقیاتی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے۔ عوام نے مطالبہ کیا کہ سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ حکومت اپنی توجہ امن و امان، تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر بھی مرکوز کرے۔

خیبر پختونخوا کے عوام کا کہنا ہے کہ صوبے کو سیاسی نعروں اور احتجاجی سرگرمیوں کے بجائے ایسی عملی حکمت عملی کی ضرورت ہے جس کے نتیجے میں عام شہریوں کو امن، بہتر صحت و تعلیم اور بنیادی سہولیات کی شکل میں واضح تبدیلی محسوس ہو۔

Scroll to Top