پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے بنوں اور لکی مروت میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات، دہشت گردی کے واقعات اور امن و امان کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر حساس مقامات کی سکیورٹی کیلئے وفاقی حکومت سے 9 ایف سی پلاٹونز طلب کرلی ہیں۔
ذرائع کے مطابق صوبائی محکمہ ہوم اینڈ ٹرائبل افیئرز کی جانب سے اس سلسلے میں وفاقی وزارت داخلہ کو مراسلہ ارسال کیا گیا ہے، جس میں دونوں اضلاع کے اہم اور حساس مقامات پر سکیورٹی یقینی بنانے کیلئے ایف سی کی تعیناتی کی درخواست کی گئی ہے۔
بنوں اور لکی مروت میں بگڑتے حالات
خیبر پختونخوا حکومت کا حساس مقامات کی سکیورٹی کیلئے فیڈرل کانسٹبلری کی تعیناتی کا فیصلہخیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے کل 9 وفاقی کانسٹیبلری پلاٹونز بنوں اور لکی مروت کے حوالے کرنے کی سفارش کی گئی
لکی مروت کیلئے 4 پلاٹونز
بنوں کیلئے 5 پلاٹونز…— Muhammad Faheem (@MeFaheem) August 29, 2026
مراسلے کے مطابق بنوں میں پولیس امن کمیٹی کے مسلسل احتجاج اور موجودہ سکیورٹی صورتحال کے باعث حساس تنصیبات کی حفاظت ایک اہم ضرورت بن چکی ہے۔ ایف سی اہلکار مقامی پولیس کے ساتھ مل کر سکیورٹی برقرار رکھنے اور ممکنہ بدامنی کی روک تھام میں معاونت کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ لکی مروت کی ڈسٹرکٹ جیل کیلئے 2 ایف سی پلاٹونز جبکہ ڈسٹرکٹ جوڈیشل کمپلیکس اور ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کیلئے ایک، ایک پلاٹون طلب کی گئی ہے۔
اسی طرح بنوں کی ڈسٹرکٹ جیل، ڈسٹرکٹ جوڈیشل کمپلیکس، ڈپٹی کمشنر آفس، ہنگو کورٹ بنوں بنچ اور کے ٹی این اینڈ گرڈ اسٹیشن کیلئے بھی ایک، ایک ایف سی پلاٹون مانگی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ڈی آئی خان میں پولیس پارٹی پر دہشت گردوں کی فائرنگ، ڈی ایس پی سمیت اہلکار زخمی
یوں دونوں اضلاع کیلئے مجموعی طور پر 9 ایف سی پلاٹونز طلب کی گئی ہیں، جن میں تقریباً 450 ایف سی اہلکار تعینات کیے جانے کی توقع ہے۔
مقامی پولیس حکام کے مطابق بنوں میں موجودہ سکیورٹی صورتحال کے باعث جوڈیشل، انتظامی اور دیگر افسران کی نقل و حرکت بھی مشکل ہوگئی ہے، جس کے پیش نظر حساس مقامات پر اضافی سکیورٹی ناگزیر ہے۔
ذرائع کے مطابق ایف سی پلاٹونز کی خدمات متعلقہ ڈسٹرکٹ پولیس افسران کے حوالے کرنے کیلئے خیبرپختونخوا پولیس اور صوبائی محکمہ داخلہ کے درمیان خط و کتابت بھی ہوچکی ہے۔
پولیس حکام نے ایف سی کی تعیناتی کیلئے وفاق سے رابطے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ تاحال وفاقی حکومت کی جانب سے ایف سی تعیناتی کی منظوری نہیں دی گئی۔
واضح رہے کہ بنوں اور لکی مروت میں پولیس پر تواتر سے حملوں کے علاوہ دہشت گردوں کی جانب سے ڈرون حملوں کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جس کے باعث دونوں اضلاع کی سکیورٹی صورتحال کو تشویشناک قرار دیا جا رہا ہے۔





