کامران علی شاہ
خیبر پختونخوا بار کونسل نے سول جج کم جوڈیشل مجسٹریٹ/علاقہ قاضی (بی پی ایس-18) کی 105 آسامیوں کے لیے خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کے تحریری امتحان کے نتائج پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نوٹیفکیشن واپس لینے اور نتائج پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کردیا۔
30 ستمبر 2026 کو جاری نتائج کے مطابق 3,097 امیدواروں نے درخواستیں جمع کرائیں، 1,024 امیدوار امتحان میں شریک ہوئے، تاہم صرف 3 امیدوار کامیاب قرار پائے۔
بار کونسل کے مطابق ججز کی کمی اور زیرِ التوا مقدمات کے باعث 105 آسامیوں کے مقابلے میں صرف تین امیدواروں کی کامیابی تشویش ناک ہے اور اس سے امتحانی معیار اور بھرتی کے طریقہ کار پر سوالات اٹھتے ہیں۔
بار کونسل نے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ سے معاملے کا نوٹس لینے، نتائج اور امتحانی عمل کا ازسرنو جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
بار کونسل نے واضح کیا کہ مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو دستیاب قانونی چارہ جوئی کا حق استعمال کیا جائے گا۔ بار کونسل نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ آئندہ سول ججز کی بھرتی پبلک سروس کمیشن کے بجائے پشاور ہائی کورٹ کے ذریعے کی جائے، تاکہ زیادہ عرصہ پریکٹس رکھنے والے تجربہ کار اور اہل وکلاء کی پیشہ ورانہ قابلیت اور قانونی مہارت کو بھی مدنظر رکھا جاسکے۔





