صوبے اور عوام کو دہشت گردوں کے حوالے چھوڑ کروزیراعلی سہیل آفریدی اور کابینہ لانگ مارچ کی سیر پر روانہ

صوبے اور عوام کو دہشت گردوں کے حوالے چھوڑ کر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ لانگ مارچ کی سیر پر روانہ ہو گئے ہیں جس کے بعد سوشل میڈیا پر صوبائی حکومت کی ترجیحات پر سخت سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

صارفین کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں بدامنی اور سیکیورٹی خدشات عروج پر ہیں جبکہ وزیراعلیٰ اور ان کے کابینہ اراکین عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ  پر نکل گئے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جاری بحث میں صارفین کا کہنا ہے کہ صوبے کے عوام اس وقت بدامنی اور خوف کی فضا میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ایسے میں حکمرانوں کو شہریوں کی حفاظت اور امن و امان کی بحالی پر توجہ دینی چاہیے تھی۔

شدید تنقید کرتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ حکومت کا یہ قدم عوامی مفاد اور صوبائی مسائل سے کھلم کھلا لاپروائی کو ظاہر کرتا ہے۔

عوامی و سیاسی حلقوں اور آن لائن صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ صوبائی حکومت اپنی تمام تر صلاحیتیں خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بحالی کے لیے وقف کرے تاکہ شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور سیاسی سرگرمیوں کے بجائے عوامی خدشات کو اولین ترجیح دی جائے۔

Scroll to Top