حمد اللہ
مانسہرہ پولیس نے تھانہ لاری اڈہ کی حدود لمبی ڈھیری میں مدرسہ کی طالبہ کے لرزہ خیز اور اندھے قتل کا معمہ حل کرتے ہوئے واقعہ میں ملوث مبینہ مرکزی ملزمان ماں اور بیٹے کو گرفتار کر لیا ہے۔
ڈی پی او مانسہرہ محمد اظہر خان نے پریس بریفنگ کے دوران تفصیلا ت بتاتے ہوئے کہا کہ 26 ستمبر 2026ء کو فاطمۃ الزہرہ مدرسہ لمبی ڈھیری کی 19 سالہ طالبہ حمنہ بی بی تعلیم حاصل کرنے کے بعد واپس گھر جا رہی تھی۔ اسی اثنا میں گھر کے قریب ہی گلی میں ایک نامعلوم شخص نے اس پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس سے وہ شدید زخمی ہو گئی۔ تشویشناک حالت میں طالبہ کو ایوب میڈیکل کمپلیکس ایبٹ آباد منتقل کیا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔
واقعہ کا مقدمہ مقتولہ کے والد سعید احمد کی مدعیت میں تھانہ لاری اڈہ میں درج کیا گیا تھا، جسے بعد میں طالبہ کے جاں بحق ہونے پر قتل عمد یعنی دفعہ 302 پی پی سی کے تحت تبدیل کر دیا گیا۔
اندھے قتل کے اس لرزہ خیز واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او مانسہرہ نے اصل حقائق اور ملزمان تک پہنچنے کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی۔
ٹیم نے جائے وقوعہ سے سائنسی شواہد اکٹھے کرنے کے ساتھ ساتھ جدید تکنیکی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے مختلف زاوئیوں سے تفتیش کا آغاز کیا۔ پولیس کی شب و روز محنت اور پروفیشنل اندازِ تفتیش کی بدولت چند ہی دنوں میں نامعلوم قاتلوں کے سراغ مل گئے۔
یہ بھی پڑھیں : وزیراعلی سہیل آفریدی نااہلی کیس ،وفاقی آئینی عدالت میں سماعت کیلئے مقرر
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے زاہدہ بی بی اور اس کے حقیقی بیٹے سعد کو حراست میں لے لیا۔ ملزمہ زاہدہ بی بی کو عدالت کے حکم پر جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ ملزم سعد کو عدالت سے 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ملزم سے آلہ قتل کی برآمدگی اور قتل کے پس پردہ دیگر محرکات پر تفتیش جاری ہے۔





