پنجاب میں گندم اور آٹے کی بڑھتی قیمتوں نے صارفین کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
لاہور کی اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت 4700 روپے سے بڑھ کر 5400 روپے فی من ہو گئی ہے، جبکہ 15 کلوگرام آٹے کا تھیلا 2350 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔
دوسری جانب پنجاب اسمبلی میں گندم کی امدادی قیمت 5 ہزار روپے فی من مقرر کرنے اور حکومتی پالیسی پر بحث کے لیے تحریکِ التوائے کار جمع کرا دی گئی ہے۔
پی ٹی آئی کسان ونگ کے جنرل سیکریٹری اور رکن پنجاب اسمبلی اعجاز شفیع کی جانب سے جمع کرائی گئی تحریک میں گندم کی امدادی قیمت مقرر کرنے اور اس حوالے سے پنجاب حکومت کی پالیسی کو ایوان میں زیرِ بحث لانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : 200 روپے کے کیلوں پر جھگڑا، سعودی عرب سے واپس آنے والا نوجوان قتل
تحریک کے متن کے مطابق قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ نے گندم کی امدادی قیمت 5 ہزار روپے فی من مقرر کرنے کی منظوری دی ہے، تاہم پنجاب حکومت کی جانب سے اس حوالے سے تاحال کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔
تحریک میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ گندم کی قیمت سے متعلق حکومتی پالیسی براہِ راست کسانوں، آٹا ملز اور عام شہریوں کو متاثر کرتی ہے، اس لیے معاملے پر فوری طور پر صوبائی اسمبلی میں بحث ہونی چاہیے۔
اعجاز شفیع کی تحریک میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حکومتی پالیسیوں کے باعث آٹے اور روٹی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ متن کے مطابق مارکیٹ میں آٹے کی قیمت 8 ہزار روپے فی من، جبکہ روٹی کی قیمت 30 روپے تک پہنچ چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پنشن کے لیے کتنے سال ملازمت کرنا ہوگی؟ عدالت نے فیصلہ سنا دیا
دوسری جانب لاہور کی اوپن مارکیٹ میں گندم 5400 روپے فی من فروخت ہونے اور 15 کلوگرام آٹے کے تھیلے کی قیمت 2350 روپے تک پہنچنے پر کم آمدنی والے طبقے نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کا فوری نوٹس لیا جائے اور آٹے سمیت دیگر اشیائے خورونوش سستی کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
تحریکِ التوائے کار میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ گندم کی امدادی قیمت کے تعین کے ساتھ ساتھ آٹے اور روٹی کی بڑھتی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
تحریک میں کہا گیا ہے کہ گندم کی قیمت کا معاملہ صرف کسانوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات براہِ راست عام صارفین تک پہنچتے ہیں۔
اعجاز شفیع نے مطالبہ کیا ہے کہ تحریک کو باضابطہ طور پر تحریکِ التوا قرار دے کر ایوان میں بحث کی اجازت دی جائے تاکہ گندم کی امدادی قیمت، حکومتی پالیسی اور آٹے و روٹی کی بڑھتی قیمتوں پر تفصیلی غور کیا جا سکے۔





