پشاور: پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ ساتویں روز وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں چارسدہ پہنچ گیا۔
مارچ کے دوران شرکا کی تعداد عوامی مشکلات اور کاروباری سرگرمیوں پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے ہیں، جبکہ شرکا کی متوقع تعداد میں کمی کے معاملے پر پارٹی کے اندر بھی اختلافات کی اطلاعات ہیں۔
ذرائع کے مطابق لانگ مارچ چارسدہ کے مختلف علاقوں سے ہوتا ہوا مردان پہنچے گا، جہاں رات قیام کے بعد قافلہ صوابی کی جانب روانہ ہوگا۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ 13 اکتوبر کو صوابی میں آئندہ کا لائحہ عمل دیں گے۔
لانگ مارچ کے ساتویں روز بھی عوام کی بڑی تعداد کو متحرک کرنے اور عوامی توجہ حاصل کرنے کا چیلنج برقرار ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایمرجنسی 12 اضلاع میں نہیں بلکہ پورے صوبے میں لگے گی،ڈاکٹر طارق فضل چوہدری
عوام کے مطابق طویل سفر اور مختلف مقامات پر قیام کے باوجود شرکا کی تعداد میں خاطرخواہ اضافہ نہ ہونا تحریک انصاف کی عوامی مقبولیت کے دعوؤں کے حوالے سے سوالات پیدا کر رہا ہے۔
دوسری جانب مارچ کے باعث معمولات زندگی متاثر ہونے کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ مختلف مقامات پر راستوں کی بندش اور تعلیمی سرگرمیوں میں تعطل کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
اسکولوں اور کالجوں کی بندش سے طلبہ کی تعلیم متاثر ہونے کے خدشات ہیں، جبکہ کاروباری طبقہ بھی معاشی نقصان سے پریشان ہے۔
کاروباری حلقوں کے مطابق مسلسل غیر یقینی صورتحال، دکانوں پر گاہکوں کی آمدورفت میں کمی اور کاروباری سرگرمیوں میں تعطل سے دکانداروں اور چھوٹے تاجروں کے مالی مسائل بڑھ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی، ایمرجنسی پلس یا گورنر راج ؟ اہم اجلاس طلب
شہریوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ سیاسی جماعتیں احتجاج اور مارچ کے دوران عوام کے روزمرہ معمولات، کاروبار اور تعلیمی سرگرمیوں کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے اقدامات کریں۔
ذرائع کے مطابق لانگ مارچ میں شرکا کی تعداد بڑھانے اور کارکنوں کو متحرک کرنے کے معاملے پر تحریک انصاف کے اندر بھی بے چینی پائی جاتی ہے۔
اطلاعات ہیں کہ بعض رہنما اس حوالے سے مؤثر کوششوں پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کے درمیان مبینہ اختلافات کو سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے ساتھ اختلافات کے پس منظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔
سیاسی نمائندگان میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ اگر لانگ مارچ کو مطلوبہ عوامی پذیرائی نہ ملی تو اس کے اثرات تحریک انصاف کی آئندہ سیاسی حکمت عملی پر پڑ سکتے ہیں۔
سہیل آفریدی کی قیادت میں جاری مارچ کے دوران عوامی حمایت برقرار رکھنا اور کارکنوں کو متحرک رکھنا پارٹی قیادت کے لیے اہم چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں گورنر راج آخری آپشن ہوگا، بلاول بھٹو زرداری
اپنے خطاب میں وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے خیبرپختونخوا کے مالی حقوق کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے کو قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت اس کا حصہ نہیں دیا جا رہا۔
انہوں نے خیبرپختونخوا پولیس کے پاس جدید ہتھیاروں کی موجودگی اور صوبے کی ترقی کے حوالے سے نمایاں کارکردگی کے دعوے بھی کیے۔
لانگ مارچ کے دوران سیاسی مطالبات اور نعروں کے ساتھ اس کے عملی اثرات بھی بحث کا اہم موضوع بن گئے ہیں۔ شرکا کی تعداد، شہریوں کو درپیش مشکلات، کاروباری نقصان اور پارٹی کے اندر کارکنوں کو متحرک کرنے سے متعلق سوالات نے تحریک انصاف کی اس سیاسی مہم کو نئی بحث میں ڈال دیا ہے۔
اب تمام نظریں 13 اکتوبر کو صوابی میں سہیل آفریدی کے اعلان کردہ آئندہ لائحہ عمل پر مرکوز ہیں، جہاں یہ واضح ہوگا کہ تحریک انصاف لانگ مارچ کو مزید وسعت دینے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہے۔





