مستونگ میں افسوسناک واقعہ! قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید

مستونگ میں افسوسناک واقعہ! قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید

مستونگ میں قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت دو افراد زخمی

مستونگ میں قومی شاہراہ پر پیش آنے والے افسوسناک فائرنگ کے واقعے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اپنے گن مین سمیت شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔

ذرائع کے مطابق واقعہ مستونگ کی قومی شاہراہ پر پیش آیا، جہاں نامعلوم مسلح افراد نے گاڑی کو نشانہ بناتے ہوئے فائرنگ کی۔ فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دیگر زخمی افراد کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

واقعے کے بعد سیکیورٹی ادارے اور پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی، علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے گئے، جبکہ حملہ آوروں کی تلاش کے لیے کارروائی جاری ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صرف ایک فرد پر نہیں بلکہ ریاست اور قانون کے نظام پر حملہ ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ قانون کے محافظوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو ہر صورت انجام تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی۔

میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں دہشت گردوں کے لیے کوئی محفوظ پناہ گاہ باقی نہیں رہے گی، امن دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی اور دہشت گردی کے ہر نیٹ ورک کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

انہوں نے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کے خون کا حساب ضرور لیا جائے گا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی۔

واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پائی جا رہی ہے، جبکہ حکام کی جانب سے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ حملے میں ملوث عناصر تک پہنچا جا سکے۔

Scroll to Top