شہزاد نوید
سوات: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کبل میں ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد سوات پہنچ گئے، جہاں انہوں نے امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا اور زخمیوں کی عیادت کے لیے متعلقہ حکام سے ملاقات کی۔
وزیراعلیٰ کے ہمراہ چیئرمین ڈیڈک سوات اختر خان ایڈووکیٹ سمیت صوبائی اور قومی اسمبلی کے اراکین بھی موجود تھے۔ دورے کے دوران انہیں واقعے سے متعلق بریفنگ دی گئی جبکہ زخمیوں کی خیریت دریافت کی گئی۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دوبارہ دہشت گردی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی اور ہر قیمت پر امن یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امن دشمن عناصر کو اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے، جبکہ پولیس اور عوام کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں دہشت گردی وفاقی حکومت کی ناقص پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سرحدوں کی حفاظت کے ذمہ دار ادارے اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا نہیں کر رہے، جس کے باعث سیکیورٹی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امن کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے عوام کو بھی پولیس کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آج سوات متاثر ہے تو کل بونیر بھی اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، اس لیے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مزید سخت پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں : سوات کبل واقعہ، تحقیقات میں اہم پیش رفت، حملہ آور کی شناخت ہوگئی، آئی جی خیبر پختونخوا
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں مزید دہشت گردی برداشت نہیں کی جائے گی اور وہ عوام سے وعدہ کرتے ہیں کہ صوبے میں امن بحال کر کے دکھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں، اسی لیے پولیس کو مزید مضبوط بنایا جائے گا کیونکہ فورس نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امن کے قیام میں پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کا بنیادی کردار ہے اور حکومت ان اداروں کی استعداد کار میں مزید اضافہ کرے گی۔
وزیراعلیٰ نے وفاقی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کو گورننس کا اختیار حاصل نہیں، جبکہ بعض ایسے عناصر جو سیاست کا حصہ نہیں، وہ سیاسی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بند کمروں میں کیے گئے فیصلے عوام میں ردعمل اور بے چینی کو جنم دیتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کے قیام کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مؤثر حکمت عملی پر عمل درآمد جاری رکھا جائے گا۔





