اسلا م آباد: ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے سوات میں ہونے والے خودکش حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واقعے کی شفاف، غیرجانبدار اور فوری تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ حملے میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔
ایچ آر سی پی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سوات میں ہونے والے خودکش حملے میں کم از کم 17 افراد شہید ہوئے، جن میں 7 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ کمیشن نے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم اور تشویش کا اظہار کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ حملہ ایسے وقت میں پیش آیا جب علاقے کے شہری امن و امان کی بگڑتی صورتحال کے خلاف احتجاج کر رہے تھے، جس سے سیکیورٹی انتظامات اور حفاظتی اقدامات پر مزید سوالات جنم لیتے ہیں۔
ہیومن رائٹس کمیشن نے بلوچستان کے ضلع خاران میں پولیس تھانے اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے دفاتر پر ہونے والے حملوں پر بھی شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی مجموعی صورتحال مسلسل خراب ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سابق سینیٹر مشتاق احمد کی مشکلات میں اضافہ، عدالت کا حکم جاری
کمیشن نے اس بات پر زور دیا کہ شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، جس کی ہر صورت میں ادائیگی یقینی بنائی جانی چاہیے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف تمام کارروائیاں قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے احترام کے اصولوں کے مطابق ہونی چاہییں۔
ایچ آر سی پی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سوات اور خاران حملوں میں ملوث عناصر کو فوری طور پر انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور متاثرہ علاقوں میں شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کیے جائیں۔





