افغانستان میں 24 لاکھ لڑکیاں ثانوی تعلیم سے محروم، پابندی فوری ختم کرنے کا مطالبہ

کابل: افغانستان میں طالبان کی جانب سے لڑکیوں کی ثانوی تعلیم پر عائد پابندی کے باعث 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے تقریباً 24 لاکھ افغان لڑکیاں ثانوی تعلیم سے محروم ہوچکی ہیں۔

اقوام متحدہ نے صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لڑکیوں کی تعلیم پر عائد پابندی کو امتیازی سلوک قرار دیا اور اسے فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ثقافتی و تعلیمی ادارے یونیسکو کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں ثانوی تعلیم سے محروم افغان لڑکیوں کی تعداد میں مزید 2 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اگر پابندی برقرار رہی تو 2030 تک ثانوی تعلیم سے محروم لڑکیوں کی تعداد تقریباً 40 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔

طالبان انتظامیہ نے اگست 2021 میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد نسبتاً نرم طرز حکمرانی کا وعدہ کیا تھا، تاہم بعد ازاں خواتین اور لڑکیوں پر متعدد پابندیاں عائد کردی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستان کے دورہ انگلینڈ کے دوران وارم اپ میچ کا دورانیہ تبدیل

لڑکیوں کو پرائمری تعلیم کے بعد مزید تعلیم حاصل کرنے سے روک دیا گیا، جبکہ خواتین کو جامعات کے علاوہ پارکوں، جم اور بیوٹی سیلونز میں جانے سے بھی منع کیا گیا ہے۔

افغانستان میں لڑکیوں کو مارچ 2022 میں ثانوی اسکولوں میں جانے سے روکا گیا، جبکہ اسی سال کے آخر میں جامعات بھی خواتین طالبات کے لیے بند کردی گئیں۔

یونیسکو کے مطابق ان پابندیوں کے باعث افغانستان میں تعلیم تک رسائی کے حوالے سے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ہونے والی پیش رفت عملاً واپس پلٹ رہی ہے۔

ادارے کے مطابق 2001 میں افغان لڑکیوں کے لیے اسکولوں تک رسائی انتہائی محدود تھی، تاہم 2021 تک تقریباً 10 لاکھ لڑکیاں ثانوی تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔

یونیسکو کی ایمرجنسی حالات میں تعلیم کے پروگرام کی کوآرڈینیٹر ہدیٰ جبیرین نے کہا کہ افغان لڑکیوں اور خواتین کو تعلیم حاصل کرنے کا بنیادی انسانی حق حاصل ہے۔ ان کے مطابق خواتین کو کام کرنے اور آزادانہ نقل و حرکت کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں : نوجوان پاکستان کا انمول سرمایہ، ان کی ترقی ہی روشن مستقبل کی ضمانت ہے: صدر مملکت اور وزیراعظم

یونیسکو نے خبردار کیا ہے کہ خواتین اور لڑکیوں پر عائد پابندیوں کے معاشی اثرات بھی سنگین ہوسکتے ہیں۔ ادارے کے اندازے کے مطابق ان پابندیوں کے نتیجے میں 2066 تک افغانستان کو تقریباً 9.6 ارب ڈالر کے معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب افغانستان کا مجموعی تعلیمی نظام بھی شدید بحران کا شکار ہے۔ یونیسکو کے مطابق پرائمری اسکول جانے کی عمر کے نصف سے زیادہ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ 10 سال کی عمر کے 90 فیصد سے زائد افغان بچے ایک سادہ تحریر پڑھنے سے بھی قاصر ہیں۔

تعلیمی اداروں میں پینے کے صاف پانی، صفائی ستھرائی اور مناسب حرارت کی سہولیات کی کمی بھی بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔

اس کے علاوہ حالیہ برسوں میں آنے والے زلزلوں سمیت مختلف قدرتی آفات نے افغانستان کے پہلے سے کمزور تعلیمی نظام پر مزید دباؤ ڈالا ہے۔

Scroll to Top