جلال محسود
ڈیرہ اسماعیل خان: بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیرہ اسماعیل خان کی جانب سے میٹرک سالانہ امتحان 2026 کے نتائج میں مبینہ بے احتیاطی کا معاملہ سامنے آگیا، جہاں ایک طالبہ کو پہلے تیسری پوزیشن کا حقدار قرار دے کر تقریب میں اعزاز سے نوازا گیا، تاہم بعد میں پوزیشن واپس لے لی گئی۔
بورڈ کی جانب سے ابتدائی طور پر طالبہ کو میٹرک امتحان میں تیسری پوزیشن دی گئی اور انہیں تقریب کے دوران انعام بھی دیا گیا، تاہم بعد میں بورڈ حکام کو معلوم ہوا کہ طالبہ نے امتحان میں امپروومنٹ کی تھی، جس کے باعث وہ قواعد کے تحت پوزیشن کی حقدار نہیں تھی۔
صورتحال سامنے آنے کے بعد بورڈ حکام نے جاری کردہ پوزیشن پر نظرثانی کی اور طالبہ سے تیسری پوزیشن واپس لے لی۔
بورڈ کی وضاحت کے مطابق امپروومنٹ کیس ہونے کی وجہ سے نظرثانی کے بعد میرٹ کے مطابق طالبہ کی تیسری پوزیشن واپس لی گئی۔
یہ بھی پڑھیں : محسن نقوی کی ایرانی صدر سے ملاقات، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا خصوصی پیغام پہنچا دیا
واقعے پر تعلیمی حلقوں، طلبہ اور والدین کی جانب سے سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ اگر پوزیشنز کا حتمی تعین مکمل جانچ پڑتال اور ریکارڈ کی تصدیق کے بعد کیا جاتا ہے تو طالبہ کو پہلے پوزیشن ہولڈر قرار دے کر مبارکباد اور اعزاز دینے کے بعد چند روز میں پوزیشن واپس لینے کی صورتحال کیوں پیدا ہوئی؟
طلبہ کا کہنا ہے کہ تعلیمی بورڈ کی جانب سے نتائج یا پوزیشنز کے معاملے میں معمولی سی بے احتیاطی بھی طالب علم کے مستقبل، ذہنی کیفیت اور عزتِ نفس پر اثر انداز ہوسکتی ہے، اس لیے پوزیشنز کے اعلان سے قبل تمام ریکارڈ، قواعد اور بالخصوص امپروومنٹ کیسز کی مکمل جانچ ضروری ہے۔
والدین نے بھی سوال اٹھایا کہ پوزیشن کا اعلان کرنے سے پہلے طالبہ کے ریکارڈ اور امپروومنٹ کیس کی مکمل تصدیق کیوں نہیں کی گئی؟





